گلگت (پ،ر) نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور نیشنل ورکرز فرنٹ گلگت بلتستان نے جامعہ قراقرم میں پیش آنے والے مبینہ جسنی ہراسگی کے واقعے کے خلاف گلگت پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا.
احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ قراقرم یونیورسٹی میں حالیہ پیش آنے والا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں. خواتین تمام شعبہ ہائے زندگی میں غیر محفوظ ہیں. قراقرم یونیورسٹی میں سکالرشپ کے نام پر اس مبینہ جنسی ہراسگی کے واقعے کی فی الفور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے. مقررین نے ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے پر جامعہ کی طالبہ کو خراج تحسین پیش کیا. انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسانی کسی مخصوص علاقے, نسل یا زبان کا مسلہ نہیں بلکہ ایک عمومی سماجی مسلہ ہے جس کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے.
مقررین نے مزید کہا کہ:
1. قراقرم یونیورسٹی سمیت تمام کیمپسز اور کالجز میں فی الفور جنسی ہراسگی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے.
2. یونیورسٹی کے ہر ڈیپارٹمنٹ میں خواتین کوآرڈینیٹرز تعینات کئے جائیں.
3. تمام کیمپسز کو جدید سیکورٹی کمیروں سے مانیٹر کیا جائے.
4. جامعہ میں اومبڈس پرسن کا فوری قیام عمل میں لایا جائے جس میں 70 فیصد نمائندگی خواتین کی ہو.
5. یونیورسٹی کے اندر غنڈہ گرد عناصر پر فوری پابندی عائد کر دی جائے.
6. چونکہ یہ تمام مسائل پدرشاہانہ نظام کی پیداوار ہیں, لہذا اس نظام کے خاتمے اور پائیدار حل کے لئے سکولوں اور کالجوں میں صنفی مساوات کی تعلیم و تربیت کو لازمی قرار دیا جائے.
شعبہ نشر و اشاعت
این ایس ایف گلگت بلتستان
این ڈبلیو ایف گلگت بلتستان
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا