گلگت (ٹی این این) گلگت حلقہ نمبر ایک سے آزاد امیدوار عوامی ایکشن کمیٹی کے سابق چیئرمین مولانا سلطان رئیس کو مسلکی ریفرنڈم کے زریعے کعلدم شدت پسند جماعت کی حمایت حاصل ہونے کی خبروں نے گلگت بلتستان کی سیاست میں تہلکہ مچا دیا ہے. تفصیلات کے مطابق گزشتہ سوشل میڈیا پر مختلف نیوز پیجز سے ایک خبر شئیر ہوئی جس میں کہا گیا کہ اہل سنت کے تمام امیدوار سمیت کعلدم سپاہ صحابہ کے سیاسی ونگ راہ حق پارٹی کے امیدوار حمایت اللہ نے مولانا سلطان رئیس کے حق دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا. یہ خبر وائرل ہوتے ہیں سوشل میڈیا پر مولانا سلطان شدید عوامی شدید تنقید کے زد میں آگیا ہے. عوامی حلقوں کی جانب سے ان کے اس فیصلے پر افسوس کا بھی اظہار کی جارہی ہے. یاد رہے ان دنوں کعلدم سپاہ صحابہ اور اہلسنت والجماعت کے امیر مولوی احمد لدھیانوی بھی گلگت میں موجود ہیں اور زرائع کے مطابق یہ اقدام ان کی خواہش پر اٹھایا ہے.اس حوالے سے مولانا سلطان رئیس نے سوشل میڈیا پر اپنا موقف جاری کرکے کہا ہے کہ مجھے تمام مسالک کی حمایت حاصل ہے آئنیدہ انتخابات میں بھاری مینڈیٹ کے خوف سے مخالفین حواس باختہ ہیں. انہوں نے کہا ہے کہ حلقہ1گلگت میں کسی قسم کا مذہبی ریفرنڈم ہوا ہے اور نہ ہم نے کوئی حصہ لیا ہے.انکا مزید کہنا تھا کہ مختلف امیدواروں کی دستبرداری ہمارے سابقہ خدمات اور جدوجہد کا صلہ ہے. جس کیلئے تہ دل سے مشکور ہوں.
دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے الزام لگایا ہے کہ ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے کے لیے حلقہ نمبر ایک میں مسلکی بنیادوں پر ریفرنڈم کرایا گیا ہے.
اُنہوں ریاستی اداروں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ریاستی کے اداروں کے خاموش تماشائی بن کر ان افراد کو کھلے عام آس عمل کو انجام تک پہنچانے دیا اور الیکشن کمیشن اور ادارے کی نااہلی کی وجہ حلقہ نمبر ایک میں ایک پھر فرقہ وارانہ بنیادوں الیکشن منعقد ہونے جا رہا ھے تمام اہلسنت امیدواران بشمول مسلم لیگ کے امیدوار کو ایک ساتھ الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا اور سلطان رئیس کو امیدوار بنایا گیا ہے.
گلگت میں مسلکی بنیاد پر الیکشن ہونے امکان، امجد ایڈووکیٹ اور مولانا سلطان رئیس کا آمنا سامنا. الیکشن کمیشن کا امتحان شروع.
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا