سیاسی شعور کی ضرورت

0 0

سیاست سے کنارا کشی کا انجام یہ ہوگا کہ تم سے نچلے طبقے کے لوگ تم پر حکومت کرنگے-(افلاطون)۔ہمارے معاشرے میں سیاست پر ان لوگوں کی اجارہ داری ہے جو سیاست کو کاروبار سمجھتے ہیں۔ان کا سیاست میں آنا دولت بنانا،اونچی اور اعلے شان محل تعمیر کرنا،اپنے بچوں کو اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوانا اور ان تمام مراعات کا حصول ہے جو ایک عام شہری کے لیے میاثر نہیں ہوتے۔جب کسی نمائندے کے ذہین میں جھوپڑی سے محلوں تک کا خواب سراہیت کر جاتا ہے تو جان لو وہ کسی معاشرے کا نمائندہ بننے کے قابل نہیں ہے۔ان کا اولین مقصد فقط اپنے مفادات کی تکمیل ہوتے ہیں جس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں،ہر وہ راستہ اختیار کرتے ہیں جس سے ان کے مفادات کی تحفظ اور تکمیل ہوتی ہے۔یہاں تک کہ معاشرے میں پنپنے والی برائیوں کی پیداوار انہی کی مرہوۓ منت ہوتی ہے۔بعض اوقات انہی لوگوں کی سیاسی کھیل میں معاشرے ذوال اور پسمندگی کی چکی میں پسے چلے جاتے ہیں،پھر معاشرے کی مثال اس پرندے کی مانند ہو جاتی ہے جسکو قید کرنے کے لیے اس کے پروں کو کاٹ دی جاتا ہے تاکہ اسکو پرواذ سے قاصر رکھا جاۓ۔

کوئی معاشرے اس وقت غیر مستحکم ہو جاتا ہے جب وہ معاشرہ مختلف حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔یہ تقسیم نسل،ذبان،مذہب،علاقہ اور قومیت کی بنیاد پر ہوتا ہے جو کہ معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلہ کر دیتا ہیے۔اس کے پیچھے ایک مخصوص گروہ کی شازش ہوتی ہے جو لوگوں کو الجھاء کر فائدہ اٹھاتا ہے۔اس تقسیم کا سب سے بڑا فائدہ ان مفاد پرست لوگوں کو ہوتا ہے جو اس پیداور کے ذمہ دار ہیں اور وقتآ فوقتآ ضرورت وقت کے مطابق اس کو مذید تقویت دیتے ہیں تاکہ اتحاد قائم نہ ہو اور ہم پر حکمرانی کرتے رہیں،جسکو آپ انگریزی میں”Divide and rule” سے جانتے ہیں۔جب تک اتحاد قائم ہے وہاں ترقی و خوشحالی ہے اور اگر یہ اتحاد تقسیم ہوجاۓ تو پسماندگی،جہالت اور غلامی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔کہاوت رقم کی جاتی ہے کہ’متحد رہو گئے تو مضبوط رہو گئے،ٹوٹ جاؤ گئے تو بکھر جاؤ گئے’.

یہاں پر ایک واقعہ رقم کرنا چاہونگا’کوتلیہ چنکیہ’ کسی جگے سے گزر رہا تھا کہ چلتے چلتے اچانک اس کے پاوں میں ایک کانٹہ چب گیا،جس پر اس سے بہت غصہ آگیا اور اس نے اس وقت ایک تاریخی جملہ کہا’ اگر برائی کو مٹانا ہے تو جڑوں سے ہی مٹا پھینکو’.جاتے جاتے مزید آنے وے وقتوں میں اس کرب سے نہ گزرنے کے لیے اس نے أس درخت کی جڑوں میں چینی(شکر) ڈال کر چلا گیا،وقت کے ساتھ ساتھ چینٹیوں نے اس درخت کی جڑوں کو کھوکھلہ کر دیا اور درخت وقت کے ساتھ ساتھ اپنا وجود کھو بیٹھا۔اس واقعے سے ہمیں یہ سبق سیکھنے کو ملتا ہے کہ برائیوں کو جنم دینے والے عناصر کو جڑوں سے ہی ختم کر دو تاکہ پھر سے معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں کامیاب نہ ہوجاۓ،جو معاشرے کو تباہی کے کنارے پر لا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔

آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں پنپنے والی برائیاں جس میں فرقہ واریت،علاقہ پرستی،نسل پرستی اور قومیت ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور انکی قیادتوں کی پیداوار ہے،جسکو اپنا موثر ہتھیار بنا کر لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ الجھاۓ رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم کہی فرقہ واریت کے آڈے آجاتے ہیں تو کہی نسل پرستی اور علاقہ پرستی کی ذد میں آجاتے ہیں۔کبھی اس بات پر غور فکر کرنے کی ذحمت ہی نہیں کہ ان برائیوں کی بنیادی وجہ کیا ہے؟آخر اس کو پیدا کرنے والے کیا چاہتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں؟تو اسکا جواب ہے یہ ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی انکی جگہ لے اور ان کی مورثی حکومت کا خاتمہ ہو،یعنی عوام انکی غلامی کرتے رہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان سب باتوں کا ہمیں علم ہوتے ہوۓ بھی ہم جھٹلاتے ہیں۔وہ اس لیے کہ دوسرے فرقے اور علاقے کو نیچا دیکھانے کے لیے ہم اس چیز کو تقویت دیتے ہیں جو ہمارے پیروں کی ذنجیر بنی ہوئی ہے۔ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کہ اس غلام کی ذنجیر کو جڑ سے اکھاڑ پھنکیے،اس کے برعکس اس برائی کے دلدل میں ہم روز بہ روز دھستے چلے رہے،اور اس کھیل کا حصہ بن جاتے ہیں جو ہمارے ساتھ ساتھ علاقے کے مفادات اور امن کے لیے خطرہ ہے۔

میرے نزدیک ان کا حل یہ ہے کہ انسان اپنے اپ سے سچ بولیں۔حق کا ساتھ دیں،ان تمام سازشوں کا حصہ نہ بننے جو ایک دوسرے کے ساتھ دست و گرایباں کرۓ،بلکہ اتحاد کا پرچم بلند کر کے ان عناصر کا خاتمہ کرۓ جو معاشرے کے استحکام اور فلاح و بہبود کے لیے خطرہ ہو۔اسکا دوسرا حل یہ ہے کہ ہمارے نوۓ فیصد لوگ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں،انکا کہنا یہ ہوتا ہے کہ سیاست اور سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہو کر ہم خود کو کسی کھیل کا حصہ نہیں بنا سکتے یہی وجہ ہے کہ ہم سے نچلے طبقے کے لوگ ہم پر حکمرانی کرتے ہیں اور ہم اپنی تقدیر کا رونا روتے ہیں اور صاحب اقتدار کو کوستے ہیں۔

ہے سیاست سے تعلق تو فقط اتنا ہے
کوئی کم ظرف میرے شہر کا سلطان نہ ہو!

از قلم ؛ اعجاز علی بومل

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website