گلگت بلتستان الیکشن 2020اوربنیادی و آئینی حقوق

0 0

الیکشن اقتدار کی منتقلی کے جمہوری طرز عمل کا نام ہے۔جمہوری طرز عمل کے ذریعے اقتدا ریا اختیارات کی منتقلی کا یہ عمل روز اول سے تنازعات کی زد میں رہا ہے، تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں،تنازعات کا اٹھنا فطری عمل ہے،انسان غلطی وغلط فیصلوں سے مبرا نہیں، یہی وجہ ہے کہ الیکشن کی صورت میں بھی عوام کے فیصلے درست و غلط بھی ہوتے ہیں،سو فیصد یہ فیصلے غلط تب ہواکرتے ہیں۔ جب عوام کی بجائے کوئی تیسری قوت الیکشن کے فیصلے کر بیٹھتی ہے، ترقی پذیر ممالک میں عوامی فیصلے دراصل ان طاقتوں کے ہاتھ میں ہوا کرتے ہیں،جنہیں پاکستان میں بعنوان خلائی مخلوق سے جانا جاتا ہے۔خلائی مخلوق کا کردار تمام ممالک میں ہوتا ہے،ترقی یافتہ ممالک کی نسبتاََترقی پذیر ممالک میں زیادہ زیادہ ہوتا ہے۔گلگت بلتستان کے الیکشن میں خلائی اور وفاقی مخلوق کا ہمیشہ سے براہ راست تسلط رہا ہے، فیصلے الیکشن سے قبل طے کیے جاتے ہیں،مگر اس دفعہ دقت کا سامنا رہے گا، خلائی ووفاقی مخلوق کا مخلوط تسلط،محض الزام تراشی نہیں بلکہ تلخ حقائق ہیں۔اس کی واضح دلیل، سر زمین علم وشعور کے باشندے،شرح خواندگی 85فیصد سے زیادہ ہونے کے باجود 73سال بعدبھی گلگت بلتستان کی نمائندہ سیاسی جماعت کے قیام میں کامیاب ہوتے دیکھائی نہیں دے رہے ہیں۔پاکستان کے تمام صوبے، قبیلے منظم سیاسی پلیٹ فارم رکھتے ہیں،بلوچستان اور فاٹا جیسے پسماندہ علاقوں کے لوگ بھی حقوق کے لیے مضبوط سیاسی پلیٹ فارم کو نہ صرف قائم کرتے ہیں بلکہ دوام بھی بخشتے ہیں، لیکن گلگت بلتستان کے تعلیم یافتہ شہری کیوں اس راہ میں پیچھے ہیں۔ اس کا سادہ جواب یہی خلائی ووفاقی قوتوں کیdivide and rule کی پالیسی ہے۔اس پالیسی کے تحت گلگت میں مذہبی منافرت،فرقہ واریت،قتل وگارت گری، ٹارگٹ کلنگ اور جلاؤ گیراو کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ مدتوں جاری رہا، نو گو ایرایاز NO GO AREAS گلگت شہر کے اندر بنے ہوئے تھے، اور سیکیورٹی کے نام پر لاکھوں کمانے والی پنجاب رینجرز خاموش تماشائی بنی ہوئی نظر آرہی تھی،بلکہ جب کبھی پنجاب رینجرز کو واپس بھیج دو کے نعرے لگنے شروع ہوا کرتے تھے،تواگلے دن شہر فرقہ واریت کی لپیٹ میں آجا تا تھا،گلگت بلتستان اسکاوٹ اور نادرن لائنٹ انفنٹری کے ہوتے ہوئے سرزمین گلگت میں پنجاب رینجرز کی ضرورت سوالیہ نشان ہے؟گلگت بلتستان کے تنازعات پر جلتی کا کام علمائے کرام نے سر انجام دیا، مساجد سے کھلم کھلا فتوے جاری کیے، ایک دوسرے پر لعن طعن کا یہ طویل سلسلہ چلتا رہا، خدا کا شکر ہے، اب یہ سلسلہ تھم چکا ہے، ممبر ومحراب والے بھی سمجھ گئے ہیں، گلگت بلتستان کے امن کا سہرا سی پیک کو جاتا ہے،سی پیک نے گلگت بلتستان کو سوائے امن کے اور کچھ نہ دیا، مفادات اور مذہب کے بھیانک جھگڑ ے جن کے ہاتھوں ہوا کرتے تھے،وہ خود سمجھ گئے ہیں، اس علاقہ کی جغرفیائی، دفاعی،تجارتی او راقتصادی اہمیت کو۔سر تاج عزیز کمیٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے،پہلی دفعہ جی ایچ کیو نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت واضح کرنے کے لئے بریفنگ دی، اگرچہ جنرل کیانی صاحب نے سر تاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ پر نواز شریف حکومت کو گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت واضح کرنے سے روکا، محض دفاعی مسئلہ بنا کے۔ آج آرمی جب اس مسئلہ کی سنجیدگی کو سمجھ چکی ہے تو دوسری طرف بین الااقوامی سازشی عناصر، اس مقصد کو ناکام بنانے کے لیے پاک فوج و سیاسی جماعتوں کو مد مقابل ٹھہرانے کے مشن میں کامیاب ہوئے۔ اس سے آپ گلگت بلتستان کی عالمی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ 15نومبر کوہونے والے انتخابات،تاریخ گلگت بلتستان کے سب سے اہم انتخابات ہیں۔ وفاقی سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت،پہلی بار گلگت بلتستان کے انتخابات کو سنجیدہ لیتے ہوئے گلگت بلتستان میں خود کمپین چلانے میں مصروف ہیں۔،چاہیے وہ اپوزیشن ہویا حکومت وعدے،دعوے،اعلانات،میلانات اور نوازشات کی زبانی خرچ جاری ہے،ان حالات میں گلگت بلتستان کے لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ ستر سالہ محرومیوں کے اژالے کا وقت آن پہنچا ہے، یہاں سمجھ داری سے کام لینا ہوگا، ملک کی بھاگ دوڑ جن کے ہاتھوں میں ہے وہ گلگت بلتستان کو شناخت دینے پر تلی ہوئی ہے، یہ فیصلہ بہت پہلے ہوچکا ہے،بھارت کا کشمیر کو لے کر فیصلہ اسی سمجھوتے کی کڑی ہے،اب یہاں فیصلہ ہونا باقی ہے، وفاقی جماعتوں کے ہاتھوں یا نجی مفادات کے لیے اپنا ضمیر کا سودا کر بیٹھیں تو پھر ہماری آنے والی نسل ہمیں معاف نہیں کریں گی،فوج گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کو لے کر سنجیدہ ہے، چائینہ گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت دینے کے لیے حکومت پاکستان پر پریشر ڈال رہا ہے، سی پیک کی کامیابی کے لیے حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا، اگر ہم تقسیم درتقسیم رہے، تو پھر سوائے پچھتا وے کے دامن میں کچھ نہ ہوگا، الیکشن سے قبل کا وقت مطالبات تسلیم کروانے کا وقت ہے، الیکشن کے دنوں ہر ایرے گیرے کی خاطر قومی واجتماعی مفادات کو پس پشت ڈال دیں گے، نجی مفادات پر قومی مفادات کو قربان کریں گے تو پھر ہم لاکھ قربانیوں کے بعد بھی کچھ حاصل کر نہیں پائیں گے۔آنے والے الیکشن اس حوالے سے بہت اہم ہیں۔ہمیں گلی، محلے کی سیاست سے نکل کر اجتماعی مفادات کو دیکھنا ہوگا۔73سالہ شناخت سے محرومی کے خاتمے کا وقت قریب آن پہنچا ہے، یہ الیکشن فیصلے کن ثابت ہونگے۔ مگر کیا ہم فیصلہ کرنے کے موڈ میں ہیں۔ موجودہ سیاسی گہماگہمی، انتشار اور نفسانفسی کے عالم میں حقوق کی آواز دب چکی ہے، جب وقت ہاتھوں سے نکل جاتا ہے توپھر حقوق کے لئے واویلا کرنا بے سود ہے۔عبوری سیٹ اپ محض دھوکہ وفریب کے اعلاوہ کچھ نہیں،عبوری لالی پاپ گلگت بلتستانیوں کو کہیں کا قابل نہیں چھوڑے گی۔آزاد ریاست جس میں دفاع،کرنسی اور خارجہ پالیسی کے اعلاوہ مکمل بااختیار سیٹ اپ یا پانچواں آئینی صوبہ محرومیوں کا اژالہ ہے۔اس کے سوا کوئی بھی دوسرا فیصلہ قابل قبول نہیں، حکومت عبوری کی لالی پاپ سے ٹرخانے کی کوشش کررہی ہے۔ جو کہ کسی صورت قبول نہیں ہے،گلگت بلتستان کو مکمل آئینی سیٹ اپ دیا جائے یا آزاد ریاست بنایا جائے۔۔
تحریر. عبدالحسین آزاد

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website