گلگت (مانٹرینگ ڈیسک) پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی زير انتظام گلگت بلتستان ميں آزادی پريڈ تقريب سے اپنے خطاب کے دوران کہا ہے کہ ميرے آج کے دورے کا مقصد گلگت اسکاؤٹس اور ان شہدا کو خراج تحسین پیش کرنا تھا جنہوں نے قربانیاں دے کر اس علاقے کو آزاد کروایا، دوسرا مجھے یہاں کے لوگوں کو مبارک باد دینی تھی کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینی ہے جو یہاں کے لوگوں کا مطالبہ تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ اپنے کمزور طبقے کو اٹھایا جائے، جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں ان کو اوپر اٹھانا اولین ترجیح ہے، ساتھ ہی گلگت بلتستان، قبائلی علاقے اور بلوچستان، پنجاب کے مغربی حصے اور اندرون سندھ پیچھے رہ گیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ان سب علاقوں کو اوپر اٹھایا جائے، آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے ہمارا سارا ترقیاتی پروگرام ان علاقوں کی طرف جائے گا۔
وزير اعظم کا کہنا تھا کہ پوری مسلم دنیا میں دیکھیں اور لیبیا سے شروع کریں پھر صومالیہ، شام، یمن، افغانستان اور عراق کو دیکھیں تو تباہی مچی ہوئی ہے یا تو جنگیں ہوچکی ہیں یا ہورہی ہیں اور عوام مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یہ دیکھیں کہ ہمارے ملک کا جو ہمسایہ ہے بھارت وہاں وہ حکومت ہے جو 73 سال کی سب سے زیادہ انتہا پسند، مسلمانوں اور پاکستان سے نفرت کرنے والی ہے، جو وہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں اور 2 قانون بنائے ہیں وہ ان کے خلاف ہیں تاکہ انہیں برابر کا شہری نہ سمجھا جائے جبکہ جو 5 اگست 2019 کو جو انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں کیا وہ کسی بھارتی حکومت نے نہیں کیا جو اس انتہا پسند، نسل پرست حکومت جو ہندوتوا کا نعرہ لےکر آئی ہے اس نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ ہمیں کتنی مضبوط پاکستانی فوج اور سیکیورٹی فورسز کی ضرورت ہے، کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا جب پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے جوان قربانی نہ دیں، سابقہ قبائلی علاقوں سے لیکر بلوچستان اور کبھی کبھی کراچی تک ایک پورے پلان کے ساتھ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی جارہی ہے جبکہ ان کے سامنے ہمارے فوجی اور سیکیورٹی فورسز کھڑی ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، جب میں بلیک میل نہیں ہوا تو انہوں نے پاکستانی فوج اور آرمی چیف کے خلاف بندوقیں تانی ہوئی ہیں اور میں شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے آرمی چیف کا انتخاب ٹھیک کیا کیونکہ اب جب ڈاکو ان کے خلاف بول رہے ہیں تو مطلب میری سلیکشن ٹھیک تھی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا