سکردو حلقہ ون سے کس پارٹی کا پوزیشن بہتر جیتنے کے قریب کون ہے اصل مقابلہ کس کے درمیان ۔حقائق پر مبنی تحریر نیوز ٹیم کی سروے رپورٹ

0 0

سکردو ( ٹی این این) سکردو انتخابات کی گہما گہمی ان دنوں عروج پر پہنچی ہوئی ہے دوسری طرف جوڑ توڑ بھی زوروں پر ہے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی سرگرمیاں دیگر پارٹیوں کی نسبت جوش و خروش دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے بعض ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ وفاقی سطح پر پی پی پی سے ڈیل کی افواہیں گردش کررہی ہے ان حالات میں پی ٹی آئی بلتستان کے 9 حلقوں میں پی ٹی ائی کو سخت مشکلات ہے اور وفاقی حکومت کے وزراء نے ابھی تک دورہ نہیں کرنا اور کیمپین چلانے کیلئے میدان میں نہیں انے کی وجہ سے پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے 2010 کے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کو انتخابی کیمپین چلانے کے گلگت بلتستان ایا اور عوام کو سبز باغ دکھا کر ووٹ لیا نہ بگ سٹی بن سکا نہ سکردو ائرپورٹ انٹرنیشنل بن سکا نہ گلگت سکردو روڈ اور بھی جو اعلانات کیے گئے تھے ان پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا اور پیپلزپارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کی اور 2015 کے انتخابات میں ن لیک نے وزیراعظم میاں نوازشریف کو گلگت بلتستان دورہ کرایا اور گلگت سکردو روڈ اور بلتستان یونیورسٹی کا اعلانات کرکے ووٹ حاصل کرلیا اب پی ٹی ائی کیا اعلانات کرتے ہیں وہ دیکھنا ہے اور کارکن بھی ہی ٹی ائی مرکز کی خاموشی پر سوالات اٹھا رہا ہے اور سروے کے مطابق اب تک کے اعداد و شمار کے نتیجے میں حلقہ 1 سکردو سے سابق وزیر اعلی سید مہدی شاہ پاکستان تحریک انصاف کے راجہ زکریا درمیان مقابلہ کانٹے دار ہے راجہ زکریا خان مقپون عوام میں کافی مقبول ہیں لیکن گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال مقپون اور ان کے بھائی ساتھ نہ دینے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اب گورنر نے سکردو کا دورہ کرکے اپنے پہلے 2015 انتخابات کے ووٹروں کے ساتھ میٹنگ کرکے پی ٹی آئی کے کمپین چلارہا ہے جس کی وجہ سے راجہ زکریا کا پوزیشن بہتر ہورہا ہے ایک وقت میں زکریا کا پوزیشن 3 نمبر تھا اور دوسری طرف گورنر کے اپنے انتہائی قریبی ساتھی دوسرے پارٹیوں میں شامل ہوا ہیں خاص کر سابق اسسٹنٹ کمشنر محمد رضا جن کا حلقہ کے اندر کافی ہولڈ ہے پی ٹی آئی چھوڑ کر مسلم لیگ ن کو پیارے ہوگئے اسی طرح سابق چیئرمین احمد علی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہا تھا اب دستبردار ہوا ہے گورنر گلگت بلتستان کوشش کررہا ہے راجہ زکریا سابق چیئرمین کو قبول کرنے کی صورت میں بہت سارے سپورٹرز بشمول سینئر نائب صدر ضلع سکردو احمد جیو اور سابق ممبر بلدیہ محمد شبیر پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ کر پی پی پی میں جانے کے لئے بلکل تیار کھڑی ہے مذکورہ اشخاص کے کافی سارے ووٹرز ہیں گورنر کے خاندانی زرائع کہتے ہیں کہ راجہ زکریا مقپون چیئرمین احمد علی کو اپنانے کے لیے تیار بھی نہیں تھا الیکشن کے موقع پر راجہ زکریا کوئی رسک لینا نہیں چاہتے اور کرسمہ تھنگ سے وزیر ولایت نے پی ٹی ائی کے ووٹ نکالنے کیلئے کافی کوشش کررہا ہے اور وزیر برادران نے کھل کر ساتھ دیا تو پی ٹی ائی کی پوزیشن بہتر ہوگا اور اسلامی تحریک کے نوجوان امیدوار عباس سفیر ایڈوکیٹ جو راجہ زکریا کا بھانجا ہے جس کی وجہ سے رکزیا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیداوار حاجی اکبر تابان کو 2020 انتخابات میں سخت مشکلات کا سامنا ہے اپنا سکا بھائی اور ان کا داماد اور پرانے نظریاتی مسلم لیگی کارکنوں نے خیرباد کہہ چکا ہے تاباں کے اپنے پانچ سالہ دور میں اپنے حلقے کے اندر کام نہ ہونا بھی اور کارکنوں کو سنبھال کے رکھا نہیں سکا اور کافی ووٹ ٹوٹ چکا ہے وارڈ نمبر 14 سے پچھلے انتخابات میں مسلم لیگ کو 500 سو زائد ووٹ ملا تھا جبکہ پی ٹی ائی کو 300 ووٹ ملا تھا اب اس بار مسلم لیگ کو 100 ووٹ بھی ملنا مشکل ہے اور وہ پانچ سو ووٹ جو مسلم لیگ ن کو ملا تھا اس میں سے 70 فیصد پی ٹی ائی کو مل رہا ہے باقی تیس فیصد پی پی کو اور وارڈ نمبر 14 سکردو حلقہ ون ک سب سے اہم وارڈ ہے اور سید مہدی شاہ کو اس بار سکمیدان نے تینوں وارڈ سے پوزیشن بہتر ہے اور ساتھ غلام شہزاد اغا کی وجہ سے اولڈینگ سے بھی پوزیشن بہتر ہورہا ہے اور جس کی وجہ سے سکردو حلقہ ون میں پی پی پی اور پی ٹی ائی کا کانٹے دار مقابلہ ہونے کا امکان ہے اور سیاست میں کوئی بھی پیشن گوئی قبل از وقت ہے دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں کیا تبدیلی ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت کیا کردار ادا کریگا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website