گلگت ( پ،ر ) ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان میں ہر کام اخباری بنایات تک ہی محدود ہوکر رہ گیا ہے،عوامی مسائل کے اتنے انبھار ہیں کہ حکمران اگر حل کرنے بیٹھ جائیں تو چوبیس گھنٹہ کام کریں تو بھی بیس سال لگ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے آبائی حلقہ سب ڈویژن جگلوٹ کے طلبہ کھلے آسمان تلے سات سو سے زائد طالبات صرف چار اساتذہ کے رحم و کرم پر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں سکول میں باتھ روم تک کی سہولت موجود نہیں۔ عمائدین جگلوٹ کی شکایت پر اسسٹنٹ کمشنر جگلوٹ کا ٹینٹ گرلز مڈل سکول کا دورہ کیا تو عوام اور والدین نے شکایات کے انبار لگا دئیے ، اسسٹنٹ کمشنر نے مڈل گرلز سکول بلڈنگ کی مرمت ، دیگر مسائل کے حل سمیت اساتذہ کی کمی کو بھی فوری دور کرنے کی یقین دہانی کرا دی ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا