گلگت( پ،ر) ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال گلگت میں ایم آر آئی مشین ہونے کے باوجود ٹکینکل سٹاف کا فقدان ہے اس وجہ سے مریضوں کو ڈیڑھ ڈیڑھ مہنیے کی پرچی دی جارہی ہے۔ مریضوں کا کہنا تھا ایم آر آئی مشین کا ہسپتال میں نصب ہونا خوش آئند اقدام ہے مگر نمبر آنے کیلئے دو ماہ لگ جائے تو مریض کا کیا حال ہوسکتا ہے ہسپتال انتظامیہ کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ عوام کا یہ بھی کہنا تھا کہ دو دو مہنیوں سے ایم آر آئی کیلئے نمبر نہ آنے کی وجہ سے تو مریضوں کو بھاری اخراجات برداشت کر کے اسلام آباد میں علاج جانے پر مجبور کیا ہوا ہے لہذا حکومت کو چاہئے کہ مریضوں کے مشکلات دور کرنے میں مدد کریں۔ دوسری طرف ایم ایس ڈی ایچ کیو کا کہنا تھا میں کچھ نہیں کر سکتا سیکرٹری نے متعلقہ ڈاکٹر کو اختیارات دیا ہے ایم آر آئی اس کی مرضی سے چلے گی۔ متعلقہ ڈاکٹر کا کہنا تھا مریضوں کی تکلف میں سمجھ سکتا ہوں پر سٹاف کی کمی کے باعث ہم مشین پر بوجھ نہیں ڈال سکتے۔
ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال گلگت میں ٹیکنکل اسٹاف کے کمی کی وجہ سے ایم آر آئی مشین ہونے کے باوجود مریض پریشان۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا