محرم سے قبل گلگت میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش،ضلعی انتظامیہ اور حکومت کی کارکردگی پر سوال اُٹھ گیا۔

0 0

گلگت(ٹی این این) گلگت بلتستان میں کرونا کے مریضوں کی علاج کرتے ہوئے شہید ہونے والے ڈاکٹر اسامہ ریاض کے نام سے ایک سڑک کو منسوب کرنے کا مسلہ فرقہ واریت کا رُخ اختیار کر رہا ہے جو کہ محرم الحرام سے قبل انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ تفصیلا ت کے مطابق چند دن قبل ضلعی انتظامیہ سے سکوار کے مقام پر ایک سڑک کو ڈاکٹر اُسامہ ریاض شہید نے نام سے منسوب کرکے باقاعدہ طور پر بورڈ لگا دی تھی جبکہ وہ سڑک پہلے ہی ناد علی چوک کے نام سے مشہور اور جانے پہچانے جاتے تھے۔ حکومتی اس روئے کے خلاف اہل علاقہ نے اپنے خدشات سے اظہار کرتے ہوئے ناد علی کا نام مسخ کرنے کے بجائے کسی دوسرے روڈ کو شہید ڈاکٹر اُسامہ ریاض کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مسلسل عوامی ردعمل سامنے آرہا تھا لیکن گلگت انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا جس کے نتیجے میں نامعلوم افراد نے شہید اُسامہ ریاض کے نام سے منسوب بورڈ کو اُتار دیا جس کے بعد گلگت میں محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی فرقہ واریت شروع ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ نگران حکومت کے ترجمان نے فیض اللہ فراق نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ نگران وزیر اعلی گلگت بلتستان میر افضل نے ڈاکٹر اسامہ ریاض کے نام پر نصب کئے جانے والے سائن بورڈ کو اکھاڑے جانے والے معاملے پر سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ معاملے گہرائی تک جا کر تحقیقات کریں جس پر گلگت انتظامیہ اور پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرتے ہوئے معاملے میں ملوث کردار کو گرفتار کیا ہے ۔لیکن اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پہلے سے کسی نام سے منسوب سڑک کا نام تبدیل کرکے گلگت میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کا اصل ذّمہ دار کون ہے۔ گلگت کے مقامی صحافی شبیر میر نے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سوال اُٹھا یا ہے۔اچھی بات ہے پولیس کو ضرور کاروائی کرنی چاہئے لیکن ایک جگہ جو اگر پہلے ہی کسی اور کے نام سے منسوب تھی اس کو ہی کیوں چنا گیا؟ کیا اور جگہیں نہیں تھیں جو ہمارے قومی ہیرو ڈاکٹر اسامہ شہید کے نام سے منسوب کی جاتیں؟۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک اور ٹیوٹر پر صارفین کی جانب سے گلگت انتظامیہ کے اس اقدام کو سوچی سمجھی سازش کے تحت گلگت میں مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی کوشش قرار دی جارہی ہے۔ گلگت بلتستان کے معروف کالم نگار شیر علی انجم نے ایک ٹیوٹ میں لکھا ہے کہ تفصیلات کے مطابق گلگت میں چوک کا نام پہلے ناد علی چوک تھا لیکن انتظامیہ نے نام تبدیل کرکے ڈاکٹر اسامہ ریاض شہید رکھ دیا۔ یہ گھناو فعل دراصل ہمیشہ کی طرح لڑاو اور حکومت کرو پالیسی کا تسلسل ہے۔ بدقسمتی سے گلگت میں فرقہ واریت کو ہوا دینے میں ہمیشہ سے انتظامیہ کا کردار رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں کی جانب سے نگران حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور مطالبہ کر رہا ہے کہ شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض گلگت بلتستان کا قومی ہیرو ہے اور ان کے نام سے ایک ایسے سڑک کو منسوب کرنے کی ضرور ت ہے جو پہلے سے کسی اور نام سے منسوب نہ ہو تاکہ اُنکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھ سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website