چلاس(تحریر نیوز)تھک داس میں گزشتہ چار سالوں سے بجلی کا مستقل نظام نہ ہونے کی وجہ سے عوام اندھیروں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔سینکڑوں کی آبادی والا یہ علاقہ حکومتی ناانصافی، عدم توجہی،غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں بھی بجلی اور صحت جیسے اہم سہولیات سے محروم ہے،مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار عمائندین تھک داس نے چلاس میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ تھک فیز ۲ کی ٹرانسمیشن لائن تھک داس سے ہوکر گزر رہی ہے ،لیکن چراغ تلے اندھیرا کے مصداق تھک داس کے سینکڑوں گھرانے موم بتی ،چائنا لیمپ اور لالٹین کی ٹمٹماتی ہوئی روشنی میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ،حکومت تھک داس میں رہائش پذیر لوگوں کے ساتھ ظلم کی انتہا کررہی ہے ،تھک داس میں نہ بجلی ،نہ صحت کے سہولیات اور نہ ہی تعلیمی درسگاہیں ہیں ،وہاں مقیم تھک داس کے مکین انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامی اور حکومت تھک داس کے لوگوں کو اچھوت سے بھی کم تر سمجھ رہی ہے اور تھک داس کی عوام پر بجلی،صحت،پانی اور تعلیم کے دروازے بند کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کئی دفعہ ضلعی انتظامیہ ،محکمہ تعمیرات اور محکمہ برقیات کو تھک داس میں بجلی کی فراہمی یقینی بنانے اور صحت و تعلیم کے سہولیات فراہم کرنے کیلئے درخواستیں دی ہیں لیکن انتظامیہ کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی ہے اورہمارے مطالبات پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ،اپنے حق کیلئے مزید خاموش نہیں رہ سکتے ہیں ۔بجلی،پانی،صحت اور تعلیم کی فراہمی شہریوں کے بنیادی ضروریات ہیں جس کو پورا کرنا حکومت کی زمہ داری ہے ۔اگر انتظامیہ نے چلاس میں دوسرے لوگوں کے گھروں کو روشن کرکے ہمیں مزید اندھیروں میں رکھنے کی پالیسی پر گامزن رہی تو ہم تھک فیز ۲ اور اس کی ٹرانسمیشن لائن کو تھک داس سے گزرنے نہیں دیں گے اُس کے بعد حالات کی تمام تر زمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی ،اس لیئے وزیر اعلی،چیف سیکرٹری اور کمشنر دیامر ریجن حالات خراب ہونے سے پہلے تھک داس میں بجلی اور دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں اور معاشرے میں تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں ،تاکہ معاشرے میں عدم توازن کی کیفیت کا خدشہ پیدا نہ ہو۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا