اسلام آباد(فدا حسین) گلگت بلتستان کے عوام نے ان کے لئے داخلے کے مقامات پر موجود سکریننگ کے نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کرنے کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی طرف سے کرونا سے بچاؤ کے لئے 13 کروڑ روپے خرچ کرنے کے بیان پر شدید حیرانی کے ساتھ سوالات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان میں داخل ہونے کے چلاس سے پہلے تھور کے مقام ایک کیمپ تو قائم کر دیا گیا ہے مگر وہاں صرف بخار کے علاوہ کسی بھی بیماری کا چیک نہیں کیا رہا ہے ۔گلگت بلتستان کے مشیر اطلاعات شمس میر کے مطابق اب 55 افراد میں کروناوائرس کی تصدیق ہوئی گئی اور 150کے قریب افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا ابھی باقی ہے ۔صوبائی حکومت نے لوگوں کو اس موزی مرض سے بچانے کے لئے 13330 آئیسولیشن کمرے اور 330 سنٹر قائم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس ان پر مبینہ طور پر 13 کروڑ روپے خرچ ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ایک صارف نے بلتستان کے لئے کچھ نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن پر علاقہ پرستی کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن پر بلتستان کو نظر انداز کرنے کا الزام پہلے بھی ان کے قریبی رفقا کی طرف سے عائد کئے گئے تھے مگر ان کی طرف سے اس طرح الزامات کی نہ تو تردید کی گئی اور نہ ہی کسی سے جواب طلبی کے حوالے سے بتایا گیا۔ اب چلاس کے قریب علاقہ تھور جہاں پر کیمپ لگا کر لوگوں کا چیک کیا رہا ہے وہاں پر سہولیت نہ ہونے کے برابر ہےداریل تانگیر جانے والوں کے لئے مقامی لوگوں کی طرف سے شور مچانے سے پہلےیہ معمولی سے سیکریننگ کا بندوبست نہیں کیا گیا تھا۔اس بہت سارئے لوگ کسی ٹیسٹ کے بغیر اپنی وادیوں میں جا چکے ہیں ۔بلتستان میں اکثر لوگوں نے محض انسانی بنیادوں پر اپنے ہوٹلوں کو قرنطینہ بنانے کی پیش کی ہے ۔اطلاعات کے مطابق اس میں مشہ بروم ہوٹل شامل نہیں ہے۔باقی گلگت اور اور سکردو میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے قائم قومی ادارہ این ڈی ایم اے نے کچھ وراڈ قائم ہونے کا اعلان تو کیا ہے تاہم ان کے فعال ہونے یا نہ ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اس لئے لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے وزیر اعلیٰ سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ 13 کروڑ روپے میں کیا کیا چیز خریدی گئی ہے؟ دوسری طرف مسافر زائر ین کے ساتھ بھی کروناوائرئس کے نام پ انتہائی برا سلوک کرنے کی اطلاعات ہیں ان مسافروں کے مطابق ضعیف لوگوں اور عمر ریسدہ افراد کو قضہ حاجات کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
حکومتی دعوں کے برعکس گلگت بلتستان میں کرونا وائرس سیکریننگ کے نظام پر عوام کا شدید تحفظات کا اظہار ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا