گلگت (پ۔ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ آرڈر 2020 ڈراؤنا خواب، شیڈول فور اور اے ٹی اے کے ذریعے حقوق کی جد و جہد دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔حفیظ الرحمٰن اور تحریک انصاف کے صوبائی صدر گلگت بلتستان کے عوام کے مجرم ہیں۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی مخالفت کر کے گلگت بلتستان کے عوام کی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیا اب تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صوبائی صدر گھر کا بھیدی بن کر لنکا ڈھا رہا ہے خود کو سیاست کا چیمپئن سمجھنے والے عمران نیازی کے سامنے گلگت بلتستان کے حقوق کا دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔گلگت بلتستان کی تاریخ اور یہاں کے عوام ان دونوں وفاقی اور صوبائی قیادتوں کوکبھی معاف نہیں کریں گے۔سیلف گورننس آرڈیننس 2009 کے بعد سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات ستر سالہ محرومیوں کے ازالے کی جانب دوسرا اہم قدم تھا تاہم وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی بدنیتی کی بدولت عوام نے اس تاریخی موقع کو گنوا دیا۔آج پھر بدقسمتی سے تحریک انصاف گلگت بلتستان کی صوبائی قیادت اور گورنر گلگت بلتستان کے محروم عوام کی آواز بننے کے بجائے نام نہاد آرڈر 2020 کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام کو پیپلز پارٹی کی جانب سے دئے گئے اختیارات چھیننے کی سازش کا حصہ بن گئے ہیں۔سلامتی کونسل کے اہم ترین اجلاس میں گورنر گلگت بلتستان کی خاموشی مجرمانہ غفلت تھی وہ وفاق میں گلگت بلتستان کے عوام کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عبوری آئینی صوبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے اور اس کے لئے جد و جہد جاری رکھیں گے۔ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی جد و جہد جاری رکھے گی اور اس حوالے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کی بات کو منشور کا حصہ بنایا ہے۔ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان آرڈر 2020 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرے گی۔
آرڈر 2020 کے ذریعے اختیارات چھیننے کی سازش ہے سرتاج عزیز کی سفارت پر قوم کے مجرموں نے مخالفت کی پی پی پی سیکرٹری اطلاعات گلگت بلتستان
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا