اسلام آباد(ٹی این این) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان نے ہمارے نمائندے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے گزشتہ روز گلگت بلتستان ہاوس میں ہونے والے پریس کانفرنس میں اُن کے موقف کا دو ٹوک اعلان کردیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اب تو اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ مسلہ کشمیر کے تناظر میں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا ہماری خواہشات کے باوجود ناممکن نظر آتا ہے۔ایسے میں گلگت بلتستان کی تہتر سالہ محرومیوں کی خاتمے کیلئے مسلہ کشمیر کی تناظر میں حقوق کی جدوجہد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اب عوام سے جھوٹ نہیں بولنا چاہئے کیونکہ سادہ لوح عوام کو آج بھی گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے علم نہ ہونے کے برابر ہے لہذا اب آخری راستہ اقوام متحدہ کے قرارداد کی بنیاد پر جہدوجہد کرنا رہ گیا ہے جس کیلئے گلگت بلتستان کے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور خاص طور پر یوتھ کو ملکر جہدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نےمزید کہا کہ ہم نے نہ صرف اس حوالے سے اخبارات میں بیان دی ہے بلکہ جہاں میں مقتدر حلقوں میں موقع ملا ہم نے گلگت بلتستان کے قومی بیانئے کو پونچانے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے اقوام متحدہ کے قرار پر 1948 میں ہی علمدرآمد ہونے لیکن بدقسمتی نے آج تہتر سال بعد اُس قانون پر عملدرآمد نہیں ہوئے اور گلگت بلتستان کو پیکچز کی بنیاد پر چلایا جارہا ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور خود آئین پاکستان کے منافی ہیں کیونکہ آئین پاکستان انسانی حقوق کو بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اُنہوں مطالبہ کیا کہ اب وقت آن پونچا ہے کہ دنیا میں ہونے والے تبدیلوں اور اُس کے اثرات کے پیش نظر گلگت بلتستان کے حوالے سے سچ بولیں اور گلگت بلتستان کو متنازعہ بنیاد پر حقوق گلگت بلتستان آئین ساز اسمبلی کو یقینی بنائیں
اقوام متحدہ کے قرادادوں کی بنیاد پر حقوق گلگت بلتستان کا قانونی حق ہے۔ اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا