بلتستان میں شمع اسلام روشن ہونے سے پہلے بدھ ازم کے پیروکار رہائش پذیر تھے اس دور کے آثار بلتستان بھر میں موجود ہیں جن میں سکردو منٹھل میں موجود بدھاسٹ راک بہت مشہور ہیں تاہم ضلع کھرمنگ کے سرحدی گاؤں ترکتی میں موجود ریچھ نما اس پتھر کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے بدھسٹ کے ہاں اسے بھگوان کا درجہ تھا اور اس ریچھ کی پوجا کرتے تھے۔ اس کے گلے میں باقاعدہ زیورات اور ہاتھوں میں کنگن بھی زمانہ قریب تک دکھائ دیتے تھے ۔
دوسری روایت کے مطابق دیومالائ داستان ہلہ فو کیسر سے منسوب اس پتھر کو رنٹھس یعنی چڑیل کہا جاتا ہے روایت کے مطابق گاوں کے لوگوں نے کیسر کی اطاعت کی تو کیسر کی دشمن چڑیل کو بہت غصہ آیا اور گاؤں والوں کو وارننگ دی کہ اس بادشاہ کی اطاعت ترک کردو یا مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ اس طرح وہ گاوں پر حملہ آور ہوئی دوسری جانب کیسر کی پھوپھی جس کا نام الکرمان بتایا جاتا ہے وہ گاوں کو بچانے آگئی۔ اسی جگہ دونوں طاقتوں کا مقابلہ ہوا اور بلآخر الکرمان نے جادوی طاقت سے اس چڑیل کو پتھر کا بنایا جو آج بھی حملے کے انداز میں گاوں کی جانب جھکی ہوئی ۔۔۔
تحریر ممتاز ناروی
تحریر نیوز نیٹ ورک کی خصوصی سیریز کی یہ دوسری قسط ہے
More Stories
عوامی نمائندے سٹیٹ سبجیکٹ رول سے خائف کیوں۔۔؟ٖٖ
پاکستانی میڈیا کی نظروں سے اوجھل گلگت بلتستان کے سلگتے مسائل اور بھارتی میڈیا
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی