گلگت( تحریر نیوز) گلگت بلتستان شائد دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنا ایک طرح سے مقامی حکومت نے غداری کے زمرے میں ڈالا ہوا ہے یہاں انٹرنیٹ عدم دستیابی کے باوجود نئی نسل جان چُکے ہیں کہ خطے کے مسائل حل نہ ہونے کی اصل وجہ کوئی اور نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنہیں عوام ووٹ دیکر اسمبلیوں تک پونچاتے ہیں مگر وہ لوگ وہاں پونچ کر عوام اور خطے کے مسائل کو بھول کر مراعات اور سرکاری ٹھیکوں کی لین دین کو سیاسی ذمہ داری سمجھ کر وقت گزاررہا ہوتا ہے ۔ان نمائندوں نے کبھی بھی گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے حوالے سے عوام کو سچ نہیں بولا ۔جوں جوں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے حوالے سے بین لاقوامی سطح پریشربڑھ رہا ہے نوجوان نسل نے تمام تر حکومتی دھونس دھمکیوں کے باوجود گلگت بلتستان کی قومی شناخت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر عوام میں بیداری لانے کا بیڑا اُٹھایا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کچھ قومی سوچ بوجھ رکھنے والے اراکین قانون ساز اسمبلی بھی اکثر اووقات ایوان میں سچ بول لیتے ہیں ایسا ہی ایک واقعہ قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں پیش آیا جب حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن قانون ساز اسمبلی میجر ریٹائرڈ محمد امین اپنی ہی حکومت پر برس پڑے اور کہا کہ بحیثیت عوامی نمائندہ ہماری کوئی حیثیت نہیں گلگت بلتستان میں دراصل وفاقی بیورکریسی کی حکومت ہے ہم ڈمی لوگ ہیں تنخواہ اور مرعات تک محدود ہیں۔ اُنکے اس بیان کو نواجوان نسل نے کافی سراہا اور سوشل میڈیا کافی پذئرائی ملی ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا