اسلام آباد(ویب ڈیسک/ٹی این این)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے واضح کر دیا ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین پاکستان فریق نہیں بنے گا۔آصف غفور نے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، کہہم اجازت نہیں دیں گے کہ ہمارے ملک کی سرزمین کو کسی کے خلاف بھی استعمال کیا جائے۔‘‘ انہوں نے عمران خان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اس معاملے میں فریق نہیں بنے گا اور صرف اور صرف امن کی حمایت کرے گا۔
مقامی ٹیلی وژن اے آر وائی پر نشر کردہ ایک پروگرام میں میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایسا کوئی ایکشن نہیں لے گا، جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان قیام امن کی خاطر اپنا کردار ادا کرے گا۔جمعے کے دن بغداد میں امریکی میزائل حملے میں اعلیٰ ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعد امریکا اور ایران کے مابین تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اس تناظر میں علاقائی سطح پر بھی کشیدگی کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے ایک دن بعد امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجودہ سے ٹیلی فون پر رابطہ بھی کیا تھا جبکہ اتوار کے دن امریکا نے پاکستانی افواج کے امریکی تریبیتی اور تعلیمی پروگرام کی بحال کا اعلان بھی کر دیا تھا۔
آصف غفور کے مطابق مائیکل پومپیو اور قمر باجوہ کے مابین ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں نے اتفاق کیا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں تمام فریقوں کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل باجودہ نے پومپیو سے کہا ہے کہ یہ خطہ کسی نئی جنگ کا متحل نہیں ہو سکتا۔آصف غفور نے ایسی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ اگر ایران اور امریکا کے مابین جنگ ہوئی تو پاکستان تہران حکومت کے خلاف واشنگٹن کا حلیف بن جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بے بنیاد خبریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔
اس فوجی اہلکار کے مطابق جنرل باجوہ اور پومپیو کے مابین پہلے بھی ٹیلی فونک رابطے ہوتے رہتے ہیں اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ جنرل غفور نے الزام عائد کہ ایسی جھوٹی خبریں ملک دشمن عناصر کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلانے میں بھارت قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کا امریکہ کو واضح جواب، ملکی سرزمین کسی مُلک کے خلاف استعمال کی اجازت سے صاف انکار۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا