ضلع غذر کا تو نہیں معلوم البتہ سب ڈویژن یاسین کے حوالے سے میرے پاس کافی معلومات ہیں ، تاہم معمہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے مزید کھوج کی ضرورت ہے، اور درکار معلومات تک مکمل رسائی کے بعد ہی کچھ کہنے کے قابل ہو سکتے ہیں ۔ اِس خطرناک کھیل کے بارے میں میرے پاس جتنے معلومات ہیں، وہ آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں ، تاکہ اِس خطرناک معاشرتی برائی کا ہم سب مل کر سدباب کر سکیں، کیونکہ فرد واحد اِس پورے عمل میں تن تنہا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔۔
سب ڈویژن یاسین کی مجموعی آبادی ستر ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ، ایک محتاط اندازے کے مطابق آبادی کا زیادہ تر حصہ یوتھ پر مشتمل ہے ، تاہم شرح اموات میں حالیہ دنوں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ، اِن اموات کا براہ راست تعلق ناقص اشیاء خوردنوش سے رہا ہے ، جن میں ڈالڈہ ، کوکنگ ائل ، بڑی مرغاں تمام مصالحہ جات وغیرہ شامل ہیں ۔ اِن اشیاء کی بہتات سے اوسط عمر میں کمی واقع ہوئی ہے ۔
یوتھ کا زیادہ تر حصہ لڑکیوں پر مشتمل ہے ، لڑکیوں کا تناسب لڑکوں سے زیادہ ہونے کی وجہ سے جن مسائل نے جنم لیا ہے ، میں اُس کی طرف انے والا ہوں ۔یوں تو یاسین میں نسل پرستی نے کافی جڑ پکڑا ہے اِسی وجہ سے اجتماعی سوچ پس پشت چلی گئی ہے ۔ ہماری اجتماعی سوچ کی فقدان کی وجہ سے کچھ عناصر کو شادی کے نام پر گھناونا کھیل کھیلنے کے لئے راہیں ہموار کر رکھیں ہیں۔
جی ہاں ! یاسین کی طول و عریض سے لاتعداد لڑکیوں کو شادی کے نام پر جھانسا دے کر نا معلوم مقام پر منتقل کئں جا چکی ہیں۔ لفظ نا معلوم میں اِس لئے لکھ رہا ہوں ، کہ یہ دنیا کی انوکھی شادیوں میں سے کچھ ہیں ، اور میں خود ایک دو شادیوں کا عینی شاہد بھی ہوں ۔ قصہ مختصر ، اِن شادیوں کا رسم عجب و غریب انداز میں شروع ہوتا ہے ۔ رخصتی والے دِن ایک گاڈی اتی ہے، جس میں دو یا تین افراد سوار ہوتے ہیں ، ایک دولہا اور دوسرا اُسکا ساتھی ، چہروں سے دغاباز لگ رہے ہوتے ہیں ۔ایک شادی میں ،میں خود موجود تھا کچھ لوگ اگئے لڑکی کو محض دولہن بنا کر تن تنہا اپنے ساتھ نا معلوم سمت کی جانب لے گئے ۔ لڑکی والوں نے جب ساتھ جانے کی اصرار کی تو اُن بندوں نے حیلے بہانے کر کے لڑکی والوں کو ساتھ جانے سے روکا ۔ جب میں نے لڑکی کے والدین سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم اِن لوگوں کو بلکل بھی نہیں جانتے اور نہ ہی ہمیں پتہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں ، اُن کا گھر کہاں ہے اور وہ کیا کرتے ہیں ۔ غرض موقعے کی مناسبت سے کچھ کہنا دانشمندی نہیں تھا ، اس لئے میں نے خاموشی کو ہی غنیمت سمجھا ، پر دل ہی دل میں کہا کہ والدین ہونے کا اچھا کفارہ اپ لوگوں نے ادا نہیں کیا ہیں۔
یاسین بھر سےجتنی بھی شادیاں ہوئی ہیں سب میں یہی ایک طریقہ واردات استعمال ہوا ہے ، جس کا ذکر ہو چکا ہے ۔ ایسے تمام افراد ، والدین کہلانے کے کسی بھی طور مستحق نہیں، جو اپنی اولاد کو بوجھ سمجھ کر جرائم پیشہ افراد کے حوالے کرتے ہیں۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی ، گھر والوں کی نظروں سے اوجھل اُن کی اولاد نہ جانے کس حال میں ہوتے ہیں ، رابطہ بھی اُن سے نہیں ہو پاتا رہا ہے ۔
سال یا دو سال کے بعد اچانک وہ افراد نمودار ہوتے ہیں اور لڑکی کو اولاد سمت والدین کے حوالے کر کے رفو چکر ہو جاتے ہیں ، جن کے خلاف قانونی کاروائی بھی ممکن نہیں ہوتی ، کیونکہ اُن کے مطابق لڑکی کو طلاق ہوئی ہے ۔ معصوم لڑکیوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل واڑ کر کے اُن کو ایک عرصے تک نوچ کر واپس لا کے والدین کے حوالے کرنے کو اپ قارئین جو نام چاہیئے دے سکتے ہیں ۔ لیکن میں نے اس عمل کو نام دیا ہے مناسب نہیں کہ یہاں بیان کروں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِن عشروں میں لڑکی کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا وہ متاثرہ لڑکی کچھ بتانے سے بھی گریزاں ہوتی ہے ۔ یوں غریب والدین پر ایک اور بوجھ ڈال دی جاتی ہے ۔
اِس قسم کی تمام شادیوں میں مقامی لوگ ملوث پائے گئے ہیں ۔ اِن نا معلوم افراد جن کا تعلق ،مانہسرہ ، صوابی ، کرم ایجنسی ، باجوڑ ایجنسی ،اور صوبہ پنجاب سمت اندورن سندھ بھی شامل ہے کا رابطہ مقامی شخص سے ہوتا ہے ، یہی شخص بہتر مستقبل کے سہانے سپنے دیکھا کر غریب والدین کو شادی پر راضی کرتا ہے ۔یہ ایک قسم کا دھندہ ہے اُن کا کاروبار اسی طرح چلاتا رہتا ہے، ایک شکار کے بعد پھر دوسرے کی تلاش میں نکل جاتے ہیں ۔ان کو شکار آرام سے مل جاتا ہے ۔
غریب گھرانوں کی لڑکیاں میڑک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد مزید تعلیم حاصل نہیں کر سکتں اور وہ گھروں میں ہی رہ جاتی ہیں، تعلیم کی کمی کی وجہ سے روزگار بھی نہیں ملتا ،اور بڑھتی عمر کے ساتھ شادی کی سوچ بھی اُن کو اندر ہی اندر پریشان کرتی ہے ، اسی پریشانی کے عالم میں وہ آرام سے فریب کا شکار ہو جاتی ہیں۔میں سول سوسائٹی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا چاہیئے یا اس کو اپ کا مسئلہ کہ کر نظریں چرانا چاہیے؟؟؟؟؟
کیا یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری میں شامل نہیں ؟؟؟؟
تحریر: ظفر اقبال
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟