کے آئی یو بورڈ یا کاروبار

0 0

۔تحریر ۔۔۔.محمد علی عالم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بھی معاشرے کی ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ہے تعلیم بندے کو انسان بنا دیتی ہے جدید دور میں معیاری تعلیم انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ دور مقابلے کا ہے دنیا بھی وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کے پاس علم ہو ، کہتے ہیں کہ علم ایک ایسا خزانہ ہے جسے کوئی بھی چوری نہیں کر سکتا ، تعلیمی ادارے ہی ہیں جو لوگوں کو تعلیم یافتہ بنا دیتے ہیں اس دور میں تعلیم کے بغیر کسی بھی ادارے میں خاکروب کی نوکری بھی نہیں ملتی ۔ گلگت بلتستان میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام کے بعد علم  کا دروازہ کھل گیا اور تعلیم کا دور شروع ہو گیا یہ اس وقت کی بات ہے جب پرویز مشرف کی حکومت تھی اس ادارے کے بننے کے بعد ایسا لگا کہ گلگت بلتستان سے تعلیمی محرومیاں دور ہو جائیں گی، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بننے کے بعد گلگت بلتستان کے تمام سرکاری سکولز کا قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ساتھ الحاق ہو گیا، میں یہاں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس ادارے نے گلگت بلتستان میں تعلیمی انقلاب لایا ہے ہزاروں لوگ یونیورسٹی سے فارغ ہو گئے ڈگریاں حاصل کر لیں تاہم یونیورسٹی کا ذیلی ادارہ کے آئی یو بورڈ جو کہ ایک کاروبار کا ذریعہ بن گیا ہے اس ادارے کا کام صرف پیسہ بنانا ہے پیسہ لے کر کہیں بھی امتحانی سنٹر قائم کر دیتا ہے امتحانی سنٹر قائم کرنے کے لئے معیار صرف اور صرف پیسہ ہے اس سلسلے میں بورڈ کا کوئی دوسرا معیار نہیں ، اس کی نسبت اگر ہم ملک کے دیگر امتحانی بورڈ کو دیکھیں تو ان کا معیار قراقرم بورڈ سے یکسر مختلف ہیں آج سے دو سال پہلے کی بات ہے خپلو کے ایک نجی سکول میں فیڈرل بورڈ کا سنٹر قائم کرنا تھا جس کےلئے اسلام آباد سے خصوصی ٹیم آئی تھی جس نے خپلو میں ایک ہفتہ بیٹھ کر سکول میں ان تمام سہولیات کو باریک بینی سے دیکھا جو ایک امتحانی سنٹر کے قیام کے لئے درکار ہیں، ان کا اپنا ایک ایس او پی بنا ہوا تھا جس کے ذریعے وہ ہر زاویے سے چیک کرتے تھے اس ٹیم کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ امتحانی سنٹر قائم کرنے کے لئے کوئی فیصلہ کرے بلکہ یہ ٹیم سروے کر کے رپورٹ بناتی تھی، پھر ایک جائزہ کمیٹی کے سامنے رکھ دیتی اگر معیار پر اترا تو امتحانی سنٹر کا قیام عمل میں آتا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں اس بورڈ کے امتحانی سنٹر قائم ہیں بلکہ ایک قابل اعتماد بورڈ بھی سمجھا جاتا ہے مگر یہاں کے آئی یو میں حالات اسکے بلکل برعکس ہیں انکو صرف پیسہ دے کر کہیں بھی امتحانی سنٹر قائم کرایا جا سکتا ہے، بورڈ کے رزلٹ نقائص پر کسی اور دن بات کروں گا جس کا  اعتراف صوبائی حکومت نے خود کیا ہے اور تمام سرکاری سکولوں کا فیڈرل بورڈ سے الحاق کر دیا ہے میں پچھلے دو سالوں سے دیکھ رہا ہوں کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بورڈ نے گانچھے کے ایم اے میں پیپرز دینے والوں کو تماشا بنا کے رکھا ہوا ہے ہر سال سنٹر کو بحال کر دیتا ہے پھر اگلے سال ختم کر دیتا ہے اس لئے کہ پیسہ دو سنٹر قائم کرو بورڈ انتظامیہ امیدواروں کی تعداد کا بہانہ بنا کر ہزاروں روپے بٹوار رہی ہے فارم جمع کرنے کے ٹائم پر کہتے ہیں کہ سنٹر خپلو میں ہی ہو گا مگر جب پیپرز کا سلیپ آتا ہے تو امتحانی سنٹر خپلو کی بجائے سکردو میں ہوتا ہے پھر مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پیسہ لے کر سنٹر بحال کر دیتا ہے یہ سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے پچھلے سال کچھ امیدوار ہمارے پاس آئے تھے اور کہا کہ ہم نے اس سال پیپر دینا تھا ہمارا سنٹر خپلو کی بجائے سکردو میں رکھا ہے یہ کہہ کر کہ خپلو میں امتحان دینے کے لئے امیدواروں کی تعداد ہمارے معیار سے کم ہے لہذا خپلو میں سنٹر نہیں بن سکتا پھر آگے سے یہ بھی کہتا ہے اگر سنٹر فیس جمع کر دے تو سنٹر بحال کریں گے پھر ہوا بھی ایسا کہ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر عدیل حیدر نے تیس ہزار روپے فیس جمع کی تو سنٹر بحال کر دیا یعنی امیدواروں کی تعداد بھول گیا تعداد رکاوٹ نہیں بنی یہ پریکٹس رواں سال بھی جاری ہے مگر پچھلے سال سے تھوڑا ہٹ کر۔ مجھے دو دن پہلے کسی کام سے ڈگری کالج خپلو جانے کا اتفاق ہوا ، ہم پرنسپل آفس میں بیٹھ کر کسی ایشو پر بات کر رہے تھے اتنے میں میرا کوئی دوست کچھ ساتھیوں کے ساتھ آفس میں داخل ہوا پھر ایک درخواست پرنسپل صاحب کو دی ، پرنسپل صاحب نے کچھ لکھ کر اسکو فیکس کر دیا میرا دوست میرے ساتھ خالی نشست پر بیٹھ گیا ، باتوں باتوں میں اس نے یہ کہا کہ میں نے ایم۔اے کا امتحان دینا تھا مگر کچھ مشکلات پیدا ہو گئی ہیں ، کے آئی بورڈ نے خپلو سے امتحانی سنٹر ختم کر دیا ہے تو میں حیران ہو گیا پھر پوچھا یار پچھلے سال تو پیسہ جمع کر کے بحال کیا تھا تو آگے سے جواب دیا اس سال بھی پیسہ جمع کرنے کا کہا جا رہا ہے اس نے ایک درخواست لکھی ہوئی تھی وہ مجھے دیکھایا ساتھ ہی یہ کہا کہ بورڈ انتظامیہ ہمیں ساٹھ ہزار روپے جمع کرنے کا کہہ رہی ہے ، میں نے پوچھا پچھلے سال تو تیس ہزار روپے جمع کئے تھے تو کہا بورڈ والے کہہ رہے ہیں اس سال فیس بڑھ گئی ہے اس طرح ان کے ساتھ آئے ہوئے دیگر امیدواروں سے بھی بات ہوئی تو پتہ چلا کہ فارم جمع کرتے وقت ہر امیدوار نے ساڑھے سات ہزار روپے پہلے ہی جمع کر دیا تھا، اب انکی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر مزید پیسہ لیا جارہا تھا جس کی ہم نے اگلے دن میڈیا میں خبر دی پھر کچھ علم دوست شخصیات نے بھاگ دوڑ شروع کی اور اپنی بساط کے مطابق امتحانی سنٹر کو بحال کرنے کے لئے کوششیں جاری ہیں جو کہ قابل تحسین ہے ۔ یہاں میں یہ بھی ذکر کروں گا کہ ہمیشہ کی طرح ہمارے منتخب نمائندوں کا کردار انتہائی شرم ناک ہے اس اہم مسئلے پر انکی پراسرار خاموشی انتہائی افسوناک ہے خیر اس مسئلے پر ہم نے علم دوست، انتہائی مخلص اور فرض شناس آفیسر جو ہر وقت علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے دن رات کام کرتے ہیں ڈپٹی کمشنر کمال خان سے بات کی تو انہوں نے اسی وقت کنٹرولر ایگزامنیشن سے بات کی اور ساتھ میں فیس جمع کرنے کے لئے بھی مالی معاونت کی قارئین! ہر سال اس طرح پیسہ جمع کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے نہ ہی ہمارے علاقے کے غریب لوگ جمع کر سکتے ہیں خصوصاً ہماری بہنیں جو گھر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں ، آئی یو بورڈ کی  اس پالیسی سے انکے خواب ادھورے رہ جائیں گے اس مسئلے پر  گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے خصوصی گزارش کروں گا کہ اس علم دشمنی پالیسی کا نوٹس لے کر اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کریں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website