تحریر
ذوالفقار علی کھرمنگی
سنُا ہے جداٸی موت کی مانند ہے اور ایسی موت جس کے بعد کوٸی دوسری حیات نہیں ہو اگر یہ سچ ہے تو میں اس مصرے کو فناۓ انسان ہی سمجھتا ہوں چونکہ اکثر و بیشتر مذاہب کے مطابق موت کے بعد تو دوسری دنیا کی تیاری ہے ۔میں اکثر جُداٸی کا شکار لوگوں کو اپنے سامنے پاتا ہوں تو زندہ لاش کی طرح پاتا ہوں یہ جو جداٸی نامی لفظ کا شکار حضرت انسان، میرے شہر میں ہر چوراہے پر موجود ملتا ہیں۔میرے یاداشت پر مبنی جداٸی کے قصے ایک مکمل کتاب رکھتا ہے چونکہ میں نے اوپر بیان کی ہے میرے اردگرد ان جداٸی کے المیے کا شکار لوگوں کےحصار ہوتیں ہیں ۔ہمارے معاشرے میں ان کو مہاجرین بھی کہتے ہیں ۔جی ہاں میں ان بچھڑے ہوۓ کارگل و بلتستان کی مہاجرین کی بات کر رہا ہوں جو پچھلے بہتر سالوں سے ایک دوسرے سے بچھڑ کر یعنی کہ جُدا رہ کر رہنے پر مجبور ہیں۔١٩٤٥ کی مہاجرین ہو یا ١٩٦٥ اور ١٩٧١ کی مہاجرین بلتستان و کارگل دونوں خطوں میں ان کی بڑی تعداد ایک دوسرے سے ملنے کے اشتیاق لٸیے اب بھی زندگی گزار رہے ہیں۔اگرچہ بہت سے لوگ ان بہتر سالوں میں اپنے عزیزوں کے بغیر شہر خموشا چلے گٸے ہیں لیکن اب بھی کچھ لوگوں کی منتظر آنکھیں بتاتی ہے کہ وہ اپنے عزیزوں سے ملنے اور اپنے سوہنے گاٶں کا نظارہ کرنے کے لٸیے بڑی بے تاب ہے۔میں خالصتان نامی دھرتی کے اور بابا گرونانک صاحب کے مریدوں کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کیونکہ دیر سہی وہ کرتاپور راہداری کے زریعے اپنے منتظر آنکھوں کا پاس رکھتے ہوۓ باباگرونانک صاحب اور سکھوں کے مقدس مقامات کی زیارت کر گٸے۔لیکن کرگل و بلتستان نامی خطے کے باسی اپنے منتظر آنکھوں میں آرمان لٸیے نا آستانہ مبارک شیخ علی برلموی کی زیارت کر سکا اور نہ ہی لداخ خطے میں موجود بت مت کے پیروکار گندھارا تہذیب کے امین خطہ گلگت بلتستان میں اپنے مقدسات کی زیارت کر سکے۔گریٹر پنجاب کے سکھ اور مسلمان باشندے جو ایک دوسرے سے بچھڑے ہوۓ تھے ایک دوسرے سے بغل گیر تو ہو سکے لیکن دونوں خطوں میں موجود بلتی مسلمان بلکہ یوں کہے بہن بھاٸی عزیز رشتہ دار ایک دوسرے کے دیدار کو اب بھی ترسے ہوۓ ہیں۔
یہاں پر ایک شکستہ دل شاعر شاید میر تقی میر، کا مرید ہوگا کا شعری مصرع میرے دھرتی کے بچھڑے ہوۓ خاندانوں پر صادق آتی ہے کچھ یوں ہے۔
جُدا رہ کر بھی زندہ ہوں مگر یہ بھی حقیقت ہے
جُدا رہنا قیامت ہے مگر میں کچھ کہہ نہیں سکتا
کارگل سکردو نامی راہداری جو بچھلے بہتر سالوں سے دو متنازعہ خطے کے باسیوں کے لٸیے جن کے( مسلک،مذہب یہاں تک کہ لسانی اور نسلی) امتیازات بھی نہیں رکھتے ہیں خونی لیکر کی مانند بند ہے۔دونوں خطے کے باسی ایک دوسرے سے ملنے کا انتظار میں ہر وقت احتجاج کناہ ہے آج کل ایک تحریک کرگل سکردو راہداری کھول دو دونوں خطوں میں یکساں طور پر ابھرٸی ہوٸی ہیں لیکن مجال دونوں خطوں کا انتظام چلانے والے حکمرانوں کو ٹس سے مس ہو جاۓ۔لاہور سے امرتسر واہگہ بارڈر کے زریعے ایک دوسرے سے خیر سگالی کے نام پر آمدورفت اور تجارت تو ہو رہے ہیں۔کرتاپور راہداری کے نام سے مذہبی آذادی،اقیلتی احترام کا انسانی حقوق پر مبنی سلیبس تو تیار ہو رہے ہیں۔راجستان بارڈر سے ہم لسانی، ہم آہنگی پر مبنی لٹیچر کا فروغ تو ہو رہے ہیں لیکن ان دونوں بدنصیب خطوں میں موجود ہر طرف کی ہم آہنگی اور انسانی بنیادوں پر مبنی رشتے رکھنے والے باشندوں کو پچھلے بہتر سالوں سے بلکل نظر انداز کیا ہوا ہے۔یہاں پر قابل غور بات یہ ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے کشمیر صوبے کے باسیوں کو ایک دوسرے کے دیدار ،آمدورفت اور تجارت کے لٸیے سری نگر اور مظفر آباد راہداری کھولا ہوا ہے لیکن وہی ریاست جموں کشمیر کے صوبے لداخ گلگت کے تقسیم شدہ اکاٸیوں کے باسیوں پر کارگل سکردو نامی راہداری پچھلے بہتر سالوں سے بند ہے۔میرے خیال میں یہ دوہرا معیار کی خارجہ پالیسی ہے اسی لٸیے دونوں خطوں لداخ و گلگت بلتستان کے عوام کو سمجھنا چاہے کہ جب تک دونوں خطوں میں اس تاریخی راہداری کے کھولنے کے حوالے سے منظم تحریک نہیں چلاتے یہ خونی لیکر اگلے سو سالوں تک اسی حالت میں برقرار رہیے گی۔اسی لٸیے ہمیں اس جاری تحریک کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دھلی اور اسلام آباد سرکار راہداری کھولنے پر مجبور ہو جاۓ ورنہ میں تو یہی کہوں گا
جُدا رہنا مقدر ہے ۔جُدا رہنا مقدر ہےےےے۔
تحریر ذولفقار کھرمنگی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟