سکردو جگلوٹ روڈ کے حوالے چند حقائق پر مبنی باتیں

0 0

یہ بات حقیقت ھے کہ کسی بھی علاقے کی ترقی میں ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کا بہت اہم رول ہوتا ھے۔ جن علاقوں میں یہ دونوں سہولیات نہ ہو وھ علاقہ چاہے جتنا بھی خوبصورت کیوں نہ ہو وھاں نہ سیاحت کے شعبے کو فروغ ملتی ھے اور نہ ہی مجموعی طور پر ترقی کے راھ پر گامزن ہوتے ہیں۔ بلتستان وھ بد نصیب خطہ ھے جہاں گزشتہ 72 سالوں سے نہ ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولیات رہی نہ ہی کمیونیکیشن کا۔

بلتستان میں کمیونیکیشن مکمل طورپر ایس سی او کے نرغے میں ھے جوکہ ایس کام کی صورت میں نیٹ ورک چلاتے ہیں اس نیٹ ورک کی حالت یہ ھے کہ جب آپ فون ملانے لگتے ہیں تو اکثر وہاں سے رپلائی آتے ہیں موجودھ سہولت موجود نہیں آپ ایک سال بعد رابطہ کریں۔ علاقے میں پہلی دفعہ آنے والے سیاحوں کو جب اس نیٹ ورک سے واسطہ پڑتا ھے تو ان کو شوگر اور بلڈ پریشر کا خدشہ پیدا ہوجاتا ھے جس کی وجہ سے وھ یہاں سے فوری بھاگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

گزشتہ 72 سالوں سے ٹرانسپورٹ کی صورت حال کمیونیکیشن سے کچھ مختلف نہیں۔ بلتستان جیسے جنت نظیر علاقے کا پاکستان کو ملانے والا واحد راستہ گلگت سکردو روڈ جوکہ گزشتہ 72 سالوں سے موت کے کنواں کا منظر پیش کرتا رھا سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں سینکڑوں گاڑیاں اور ٹرک سامان سمیت دریا برد ہوتے رھے ۔بلتستان کے غیور عوام نے اس سڑک کی از سر نو تعمیر کے لئے ہزاروں بار احتجاج کئے انجمن تاجران سکردو بلتستان نے 19 بار شگر ڈاون ہڑتال کئے بالآخر اس روڈ کی تعمیر کی نوید سنائی دی۔ٹینڈر کے مراحل بھی طے ہوئے ۔ٹھیکہ ایف ڈبلیو کے نصیب میں آگئے چونکہ بلتستان کے عوام مسلح افواج سے والہانہ ہمدردی رکھتے ہیں اس لئے شروع میں ایف ڈبلیو او کو ملنے پر عوام نے خوشی کا اظہآر کیا لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ایف ڈبلیو او نے عوام کو تو دور کی بات اپنے جسم پر تنے ہوئے اس خوبصورت یونیفارم کا بھی خیال نہیں رکھا جو اس قوم کی کامیابی کی علامت ھے۔

مسافت کم اور مشکل چڑھائیاں ختم کرنے کے لئے ایک دو جگہوں سے روڈ کی سائیڈ تبدیل کرنا تھا اسے شروع سے ہی نظر انداز کر دیا گیا وقت کو بچانے اور سفر کو آسان کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ٹنلز تھے جوکہ ایگریمنٹ میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایف ڈبلیو او کے سابق کمانڈر جنرل افضل صاحب نے سکردو میں اسٹیک ہولڈرز سے اپنے ایک اہم ملاقات میں ان تمام ٹنلز کو بنانے کی زبردست یقین دھانی کی تھی ٹنلز کے لئے نشان بھی لگا دئے گئے تھے عوام نے سکھ کا سانس لیا ایف ڈبلیو او اور پاک آرمی کے لئے دعائیں دینے لگے افسوس یہ سارے باتیں اور نشانات محض دکھاوا اور ہاتھی کے دانت ثابت ہوئے۔ ٹنلز کو محض ٹیکنالوجی کے فقدان کا بہانہ بناکر منسوخ کرکے بلتستان کے عوام کے کی رہی سہی امید بھی ختم ہوگیا۔بلتستان کے عوام کی 72 سال کی کوشش ایف ڈبلیو او اور پاک آرمی سے توقعات مٹی پلیز ہوگئے۔

پچھلے ہفتے راقم کو اسی روڈ سے سفر کا اتفاق ہوا ۔ اس سڑک کی اہمیت اور افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے جتنا یہ چوڑا ہونا چاہئے تھا اتنا نہیں ہوا۔ سینکڑوں جگہوں پر ایسے چھوٹے چھوٹے موڑ رکھے گئے ہیں جنہیں معمولی محنت سے ختم کرکے سیدھا کیا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا جوکہ ایک بار پھر تسلسل سے حادثے کا سبب بن سکتا ھے۔ بلتستان کے عوام اور تاجر طبقے نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا ھے کہ اس اہم شاہراھ کو صرف ایف ڈبلیو او کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے بلکہ اس کی مزید بہتری اور ٹنلز کو بنانے کے لئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں تاکہ دفاعی اور سیاحتی نوعیت کا یہ اہم منصوبہ پاک آرمی اور ایف ڈبلیو کی طرف سے بلتستان کے عوام کے لئے ایک تاریخی تحفہ ثابت ہو۔

 

تحریر:احمد چو شگری

 

مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website