سکردو (ٹی این این) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت گلگت بلتستان میں گندم سبسڈی کے خاتمے کا سوچنا بھی نہیں۔ اگر ایسا کوئی عوام دشمن اقدام اٹھایا گیا تو ماضی کی طرح عوام سڑکوں پہ نکل آئیں گے۔ گندم سبسڈی کے سبب عام عوام کی زندگی آسان ہے اور اس کا خاتمہ انکے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ذمہ داران کی طرف سے گندم سبسڈی کے خاتمے اور کوٹے میں کمی کی خبریں میڈیا میں گردش کر رہی ہیں وفاقی حکومت ایسی عوام دشمن پالیسی سے باز رہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ ہے کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ گندم کے کوٹے میں بھی اضافہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے گلگت بلتستان کے متعلق فیصلے کے بعد نہ صرف گندم سبسڈی کے خاتمے کا قانونی جواز نہیں بنتا بلکہ دیگر اشیائے خردونوش پر سبسڈی ملنی چاہیے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ وفاق کی طرف سے فراہم ہونے گندم کی کوالٹی پر پہلے ہی تحفظات ہیں اور نون لیگ کی حکومت میں کوٹے میں بھی کمی کی گئی۔ اب کی بار خاتمے کی خبروں سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کے ذمہ داران گندم کی کوالٹی کے حوالے سے موجود تحفظات دور کرے اور گلگت بلتستان کے لیے کوٹہ بڑھانے کے حوالے سے اپنا موقف واضح رہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو گندم ضروریات کے مطابق نہیں مل رہی ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ گندم سبسڈی کو ختم کی گئی تو صرف اسکی بحالی کے لیے ہی نہیں بلکہ اور بھی مطالبات کے ساتھ تاریخی تحریک چلائی جائے گی۔
گندم سبسڈی کے حوالے سے وفاق موقف پیش کرے گندم کوالٹی پر بھی تحفظات ہے آغا علی رضوی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا