استور(ٹی این این) گلگت بلتستان کے شوشل ایکٹوسٹ و پاکستان پیپلزپارٹی رہنما وزیر نعمان نے کہا ہے کہ استور ڈی۔ایچ۔کیو ہسپتال میں فرائض انجام دینے والے کنٹریکٹ ڈاکٹرز کی ملازمت میں توسیع نہ ہونے کیوجہ سے وہ اکتوبر سے ابتک آپنی ماہانہ تنخواہ سے محروم ہیں۔
کیا بغیر تنخواہ کے ان غیر مقامی و مقامی ڈاکٹروں سے مزید فرائض کی ادائیگی کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ اس سے پہلے خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے تین ڈاکٹرز استعفی دے کر ڈی۔ایچ۔کیو ہسپتال استور کو خیرباد کرچکے ہیں۔
صحت کے میدان میں انقلابی اقدامات آٹھانے کے دعویدار استوری ممبران اسمبلی بلخصوص پارلیمانی سکریٹری ہیلتھ برکت جمیل کیا ان ڈاکٹروں نے آپنے کنٹریکٹ کی توسیع کی فائل لے کر سکریٹری صحت کے دفتر میں سجدہ ریز ہوتے رہنا ہے یا بحثیت عوامی نمائندہ آپ لوگوں کی بھی کوئی ذمہ داریاں ہیں۔ فیس بک پر آپنی کارکردگی کا ذکر تو آپ برملا کرتے ہیں لیکن عملا کچھ نظر نہیں آتا۔
جناب ڈپٹی کمشنر استور بھی آپنا کردار ادا کریں۔ استور ہسپتال ویسے ہی بھوت بنگلا بنتا جارہا ہے۔ سکریٹری صحت سے بات کریں کنٹریکٹ کی توسیع کی فائلوں کو سرخ فیتہ لگا کر کہی پر دبا کر رکھا گیا ہے۔ ان فائلوں کی گرد جھاڑ لیں۔ اور فورا اس مسلے کا حل نکالیں۔
ورنہ مزید دو چند ڈاکٹرز جو اس ہسپتال میں فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ وہ بھی استعفی دے کر اس ہسپتال سے رخصت ہونے جارہے ہیں۔ کسی ملازم سے بغیر تنخواہ کے فرائض ادا کرنے کی توقع رکھنا انتہائی مطلب پرستی ہے۔
استور ہسپتال کے کنٹریکٹ ڈاکٹرز کیا کرنے جارہا ہے پیپلزپارٹی کے رہنما وزیر نعمان نے سخت انکشافات کردیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا