سکردو(ٹی این این) عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کا ایک ہنگامی اجلاس مقامی ہوٹل سکردو میں منعقد ہوا. اجلاس میں کمیٹی کے زیلی ممبران نے شرکت کیں . اجلاس میں علاقے کے اندر جاری انتظامی نا یمواریوں اور ارباب اختیار کی عوام کش پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ اسوقت انتظامی مشینری کی کارگردگی انتہائی مایوس کن ہے. مہنگائی میں آئے روز اپنی من مانی سے ریٹ بڑھارہے ہیں. پرائز کنٹرول اتھارٹی ہائی بر نیشن میں ہے. گلگت سکردو روڈ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے بندش کا شکار ہے. گورنر گلگت بلتستان کی جھوٹی خبر پر کہ وفاقی حکومت نے فنڈز جاری کردیئے ہیں عوام مطمئن تھے کہ کام جاری رہے گا. لیکن FWOکی جانب سے گورنر کی بات کی نفی کرتے ہوئے واضح کردی ہے کہ فنڈز کی بروقت دستیابی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے پروجیکٹ کو جاری رکھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے. اس کے علاوہ عوام کے چراگاہوں پر خالصہ سرکار کے نام پر شب خون مارنے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری و ساری ہے. بارڈر کے پار 35Aاور 370 پر ماتم کرنے والے پچھلے 50 سالوں سے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں. جس سے عوام سوچنے پر مجبور ہیں کہ مقبوضہ کشمیر اور کارگل لداخ میں آئین سے ایک شق کا خاتمہ ہوا ہے ابھی زمینوں پر دراندازی نہیں ہوئی ہے. اس کے باوجود حکومت پاکستان کا احتجاج کرنا جبکہ گلگت بلتستان میں خود عملی طور پر اس آئین کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں. کیا پاکستان کی نظر میں گلگت بلتستان کے عوام کی حیثیت مقبوضہ کشمیر اور کارگل لداخ کے عوام سے کمتر ہے؟. اگر ایسی سوچ رکھتے ہیں تو یہ پاکستان کی استحکام اور سلامتی کیلئے زہر ہلاہل ثابت ہونگے. شرکاء نے مشترکہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے ارباب اختیار سے فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیاہے.
1.سکردو گلگت روڈ کیلئے فوری طور پر وفاقی حکومت فنڈز جاری کریں اور فوری طورپر پروجیکٹ کی تکمیل کو ممکن بنائیں.
2.خالصہ سرکار کے نام پر عوامی زمینوں کو ہتھیانے کے لیے لینڈ ریفارمز اور لینڈ ریونیو ریکارڈ کمپیوٹرایزیشن کے نام پر غریبوں کی ملکیتی زمینیںوں کو آفیسر شاہی کو ہتھیا نے نہیں دینگے اگر لینڈ ریفارمز ناگزیر ہے تو سب سے پہلے عوام کو اعتماد میں لیا جائے.
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا