سکردو(پریس ریلیز)آج مورخہ 13نومبر2019 کو سول سوسائٹی بلتستان کا ایک اہم اجلاس دیوسائی پیلیس سکردو میں منعقد ہوا. اجلاس کا مقصد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سکردو میں غیر قانونی ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف لائحہ عمل طے کرنا تھا. اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلدیاتی الیکشن کے بغیر بیوروکریسی کی جانب سے نا جائز، غیرقانونی اور غیر آئینی ٹیکسز نافذ کرنا نہ صرف من مانی ہے بلکہ عوامی مینڈیٹ کی بھی توہین ہے. جس کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں. غیر قانونی ٹیکس کوعوام پر لاگو کرنے کی سازشوں کے خلاف بھرپور مہم چلانے کا بھی عندیہ دیدیا گیا. اجلاس نے ساتھ ساتھ سکردو کارگل روڈ کھولنے اور سکردو میں بلک ڈپو کے قیام کیلئے جدوجہد کرنے پر بھی اتفاق کیا بلکہ بدترین غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلک ڈپو کے قیام میں رکاوٹ ڈالنے والوں اور سکردو کارگل روڈ کھولنے میں بے حسی اور لاپرواہی کامظاہرہ کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا. غیر قانونی ٹیکسز، بلک ڈپو کے قیام اور سکردو کارگل روڈ کھلوانے کیلئے احتجاج ،دھرنوں کا راستہ اختیار کرنا پڑا تو گریز نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا. اجلاس نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر سکردو ٹیکس نافذ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ہے. اور ٹیکس لگانے کا فیصلہ اگر کرنا ہوا تو صرف بلدیاتی منتخب ممبران ہی لوکل ٹیکس لگانے کے مجاز ہیں. موجودہ تناؤ کا ذمہ دار بلدیاتی الیکشن نہ کرانا بھی ہے. جس کی وجہ سے ایک بیوروکریٹ بادشاہ بن کر فیصلے مسلط کررہا ہے. آج 21ویں صدی میں بھی یہاں کے عوام کوبادشاہت کے زیر نگین رکھنے پالیسی ہرگز قبول نہیں ہے. غیرقانونی ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف علاقہ بھر کے مختلف انجمنوں، تاجر تنظیموں، مارکیٹ ایسوسی ایشنوں، سیاسی پارٹیوں، طلباء تنظیموں کے علاوہ حقوق کی جدوجہد میں مصروف کار یوتھ ایکشن کمیٹیوں نے بھی بھرپور ساتھ دینے کا بھی عندیہ دیا ہے. سول سوسائٹی بلتستان نے ان تمام تنظیموں کے ساتھ ملکر پلیٹ فارم تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے. سول سوسائٹی بلتستان کے زیر اہتمام اس اہم اجلاس میں نجف علی،معروف سیاسی رہنما عبداللہ حیدری، محمد علی دلشاد،معروف ماہر قانون بشارت علی ایڈووکیٹ ،معروف تاجر رہنما خواجہ مدثر، سفیر حسین، علی پلازا مارکیٹ کے صدر سرتاج علی کمال کے علاوہ دیگر نے شرکت کی. اجلاس نے غیر قانونی ٹیکسز، سکردو کارگل روڈ کھولنے اور بلک ڈپو کے قیام کے ایشو پر مذید عوامی پیشرفت کیلئے سول سوسائٹی بلتستان کے روح رواں نجف علی کو ذمہ داری گئی.
سکردو انتظامیہ کو ٹیکس کے نفاذ کا اختیارنہیں،ٹیکس کے خلاف بھرپور عوامی مہم کی تیاریاں مکمل۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا