گلگت(پ،ر) گلگت بلتستان کے لوکل اداروں میں مقامی ملازمین کو حق کیلئے آواز اٹھانے کی وجہ سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔کسی بھی ادارے میں اشرافیہ کے خلاف بولنے کی جرات کرنے والے ملازمین کو بھاری قیمت چکانا پڑھ رہا ہے.ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کیاانہوں میں مزید کہا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ کے درجن سے زائد ملازمین کی ٹرانسفری اور کئی ملازمین کا اخراج صرف ایک ملازم کے ایماں پر ہو چکا ہے ادارے کے اندر میرٹ اور قانون نامی کوئی چیز موجود نہیں ہے عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد سپریم اپیلٹ کورٹ کو مستحکم بنانے کی ہے تمام زیادتیوں کے ازالے تک جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا.انہوں نے کہا کہ نا انصافی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ کھلے عام اداروں میں لوکل نان لوکل کا تعصب پروان چڑھ چکا ہے لوکل ملازمین کی بیماری پر چیک اپ کیلئے بھی چھٹی نہیں ملتی جب کہ نان لوکل ملازمین کو مراعات سمیت دو دو سال تک سکالر شپ کیلئے بھجوایا جاتا ہے.انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان مسائل کے حل کیلئے عملی تحریک کا آغاز کیا ہے اور گزشتہ جلسے کے بعد اگلے لائحۂ عمل کا اعلان بہت جلد کیا جائے گا.انہوں نے کہا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا ادارہ ہے ججز کی عدم تعیناتی اور دیگر مسائل کی عوام کو بجائے سہولیات کے فراہمی کے لوکل ملازمین کیلئے مصیبت بن چکا ہے لہذا اس ادارے میں میرٹ پر ججز کی تعیناتی سے لےکر ملازمین کے مسائل کے حل تک عوامی ایکشن کمیٹی اپنا کردار ادا کرے گی.
انہوں نے کہا کہ لوکل اداروں میں مقامی ملازمین کے حقوق کے تحفظ کیلئے اسلام آباد میں اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں ہوئیں ہیں اس کے باوجود بھی مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں گلگت بلتستان بھر میں بھرپور احتجاجی سلسلے کا آغاز کیا جائے گا.
گلگت بلتستان کے لوکل اداروں میں مقامی ملازمین کو حق کیلئے آواز اٹھانے کی وجہ سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مولانا سلطان رئیس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا