سپریم اپلیٹ کورٹ میں میرٹ کے مطابق ججزکا تعین نہ ہونا گورنر کی ناکامی ہے۔ مولانا سلطان رئیس

0 0

گلگت(پ،ر) گلگت بلتستان کی عدلیہ میں ججز کی کمی عوام میں محرومیوں کے باعث بن رہی ہے میرٹ کے مطابق ججز کے تعیناتی کو یقینی بنا کر عوام کو ریلیف دیا جائے.سپریم اپیلٹ کورٹ کی جانب سے ایل ایل ایم کیلئے یونیورسٹی آف لا کراچی اور یو کے کیلئے دوسالہ سکالر شپ پر غیر ڈومیسائل ہولڈر کو ریکمینڈ کرنا مقامی ملازمین کی صریحا حق تلفی ہے گلگت بلتستان کے مقامی کسی فرد کا انتخاب کیا جائے.
ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے میڈیا کیلئے جاری کردہ بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے ان اداروں میں ہونے والی زیادتیوں کے پیچھے گورنر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا ہاتھ ہے انہیں کے غلط فیصلوں اور ذاتی مفادات کے چکر میں گلگت بلتستان کے اجتماعی حقوق کا سودا ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ کے معاملات میں گورنر گلگت بلتستان کا کلیدی کردار ہے اس کے باوجود ان سارے مسائل پر خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام اداروں میں ملازمین اپنے مسائل کو لیکر پریشان ہیں جبکہ حکومت آئندہ الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیںساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر ان مسائل کا سنجیدگی سے حل نکالنے میں گورنر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے اپنا کردار ادا نہیں کیا تو عوامی احتجاج کا رخ ان کے طرف موڑ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا سپریم اپیلٹ کورٹ کے ایک ملازم کے خلاف آج گلگت بلتستان کے عوام احتجاج کررہے ہیں اور ادارے کے طرف سے انکو دوسالہ سکالر شپ پر UK کیلئے نامزد کیا گیا ہے اسی رویے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے لوگوں نے تیزی سے مایوسی کے آثار پھیلتے نظر آرہے ہیں.انہوں نے چیف جسٹس سپریم اپیلٹ کورٹ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کیا ہے کہ ان مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حل نکالا جائے وگرنہ اس طرح کے حالات گلگت بلتستان کے دیگر اداروں میں بھی پیدا ہونے کا امکان موجود ہے.

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website