تحریک انصاف گلگت بلتستان اور رائل فاونڈیشن۔۔۔

0 0

وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی بہت مضبوط حکومت ہے اس کے علاوہ وزیر اعظم جناب عمران خان نے نہ صرف اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا لوہا منوالیا ہے بلکہ وزیر اعظم کی عالمی سیاست میں اعلیٰ کردار‘ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جارحانہ اقدامت کو مظالم کو دنیا میں نازی طرزکے سیاہ کارناموں کو بڑی کامیابی سے دنیا کے سامنے اجاگر کرنے اورایران اور سعودی عرب دو متحارب مسلمان ممالک کے درمیان صلح کے لئے ذاتی کوششوں کی وجہ سے پاکستان میں ہر شخص ان کے مداح ہوگئے ہیں اور یوں ان کی پاکستان تحریک انصاف اب پاکستان کی صف اول کی ایک مضبوط سیاسی پارٹی کے طور پر لوگ قبول کرنے لگے ہیں ۔ گلگت بلتستان میں بھی عمران خان صاحب نے اپنی پارٹی کو کئی سال تک بنیانوں کے ہاتھوں اسیر رکھنے اور عوام کا اس پارٹی سے اعتماد اٹھ جانے کے بعد اب ایک تجربہ کار ‘ سنجیدہ اور مضبوط اعصاب کے مالک جسٹس (ر) سید جعفر شاہ صاحب کو پی ٹی آئی کے صدر کے طور پر مقرر کرنے کی وجہ سے یہاں کے لوگ پر امید ہوگئے تھے کہ اب گلگت بلتستان میں بھی تحریک انصاف ایک مضبوط اور طاقتور عوام پارٹی بنے گی اور لوگوں کو ان کی محرومیوں سے نجات ملے گی۔ لیکن یہ گلگت بلتستان کے عوام کی بدنصیبی کہیے کہ جیسے ہی شاہ صاحب کا انتخاب بطور صدر کے کیا گیا اسی پارٹی کے اندر ان کے خلاف ایک مضبوط لابی میدان میں نمودار ہوی جس نے ہر فورم پر شاہ صاحب کی مخالفت کرنے اورپارٹی کے اندر اختلافات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جس کا مظاہرہ پچھلے دنوں سکردو میں پارٹی کے اس جلسے میںظاہر ہواجس میں وزیر اعظم پاکستان نے شرکت کرنا تھا۔اس سازش کے بارے میں گلگت بلتستان کے ایک سینیر تجزیہ نگار وزیر نصرت نے اپنے کالم ’’ لکھنا جرم ہے‘‘ میں کھل کر کیا ہے جسے کئی اخبارات نے شایع کیا ہے۔ اس جلسے کی تیاریوں کے دوران اور جلسہ میں بھی چند سازشی عناصر نے کوشش کی کی جعفر شاہ صاحب کی شخصیت کوکو کم تر دکھا یا جائے ۔گو اس جلسہ میں موسم کی خرابی کی وجہ سے وزیر اعظم صاحب سکردو نہ آسکے لیکن یہ جلسہ اس حوالے سے کامیاب ترین جلسہ ثابت ہوا کہ اس سے پہلے سکردو میں لوگوں کا اتنا جم غفیر کبھی کسی دوسرے پارٹی کے جلسوں میں نظر نہیں آیا۔ جب اطلاع ملی کہ وزیر اعظم صاحب موسم کی خرابی کی وجہ سے سکردو آکر جلسہ میں شرکت نہیں کرسکیں گے تو جلسہ کے ابتدا میں ہی ایک اناونسرنے یہ اعلان کرکے کہ وزیر اعظم صاحب اس جلسہ میں نہیں پہنچ رہے ہیں لوگوں کے جوش و خروش کو ٹھنڈا کرنے اور لوگوں کو جلسہ سے اٹھ جانے کی ترغیب دے کر اس جلسہ کو ایک ناکام جلسہ بنانے کی کوشش کی لیکن یہ عوام کا پی ٹی آئی سے محبت اور شاہ صاحب کی شخصیت کی کشش تھی کہ اس طرح بلواسطہ لوگوں کو بکھر نے کی ترغیب دینے کے باوجود اس جم غفیر میں کوئی کمی نہیں آئی۔اور جلسہ ایک کامیاب جلسہ رہا۔اس جلسہ کے بعد پارٹی کے کئی محترم ممبران نے انہیں اپنے اپنے علاقوں میں بڑی شد و مد سے دعوت دی اور شاہ صاحب نے ان دعوتوں کو قبول بھی کیا لیکن ان مقامات پرپہنچنے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ شاہ صاحب کوپارٹی کی طرف سے دعوت نہیں تھی بلکہ ان افراد کی طرف سے ذاتی د عوت تھی اس لئے ان مقامات پر چند درجن سے زیادہ لوگ ان کے استقبال کے لئے موجود نہیں تھے ۔اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ جہاں ان افراد نے دعوت دے کر شاہ صاحب پر یہ تاثر بٹھانے کی کوشش کی تھی کہ صرف وہی اس علاقے میں پارٹی کے مالک اور سربراہ ہیں تو دوسری طرف یہ بات کھل گئی کہ پارٹی کی اکثریت ان افراد کے ساتھ نہیں ہیں۔اس کے بعد گورنر صاحب نے ضلع کھرمنگ کے کئی دیہات کا بہ نفس نفیس دورہ بھی کیا۔ ایک گورنر کا کسی علاقہ کا دورہ نہایت اہم ہوتا ہے نیز آپ خانوادہ مقپون کے چشم و چراغ ہونے کی حیثیت سے بھی ان مقامات میں ان کا شامدار استقبال ہونا چاہیے تھا لیکن ایک ڈیڑھ درجن افراد سے زیادہ کا کہیں بھی استقبال کے لئے نہ ہونا نہ صرف گور نر کے لئے بلکہ علاقے کی ایک نہایت مقتدر اور صاحب حیثیت خاندان کا سربراہ ہو نے کے ان کے لئے باعث زیب ثابت نہیں ہوا۔ ا س سلسلے میں سید مہدی شاہ سابق وزیر اعلی کے اس بیان سے کچھ روشنی ضرور پڑتی ہے کہ گورنر صاحب اپنی مرضی سے نہیں بلکہ وہ مسلم لیگ ن کے سپیکر کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ اب خدا جانے کہ سید مہد ی شاہ صاحب کی یہ بات کس حد تک درست ہے۔اس بیان سے پہلے گلگت میں سابق گورنر گلگت بلتستان میرغضنفر خان جو کہ کئی دہائیوں سے مسلم لیگ کے خوشہ چین اور نوازشریف کے ذاتی دوستوں میں سے تھے اپنے بیگم کے ساتھ شاہ صاحب کے گھر ملاقات کے لئے چلے آنا ‘ اور اس جلسہ کے بعد سکردو میں تحریک انصاف کی میٹنگوں اور جلسہ جلوس میں شگر کی طرف سے راجہ اعظم خان صاحب کا پیش منظر میں ہونا اور نوجوان رہنما انجینیئروزیر عدیل کو پس منظر میں رکھنا ‘ روندوسے راجہ روندو کے نوجوان فرزند راجہ ناصر خان کا روندو میں پی ٹی آئی ٹکٹ سے انتخاب لڑنے کا اعلان اس حقیقت کا غماز ہے کہ رائل فاونڈیشن کے ممبران اور ان کے حمایت یافتہ افراد کو قبل از وقت ہی پارٹی کے کسی مقتدر شخص کی طرف سے انتخابی ٹکٹ دئے جانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور آنے والے انتخابات میں جی بی رائل فاونڈیشن نے کسی اورکو موقع نہ دینے اور خود اسمبلی میں قبضہ جمانے کا پروگرام بنایا ہے ۔ شگر کے چند سیاسی کارکن نوجوانوں سے ملاقات میں یہ واضح طور پر انکشاف ہوا کہ شگر میں وزیر عدیل کو پس منظر میں رکھنے کی اصل وجہ ہی یہی ہے کہ راجہ اعظم خان صاحب کے لئے خود انتخاب لڑنے کا راستہ صاف رکھاجائے لیکن شگر میں یہی بات تحریک انصاف کے لئے شدید نقصان اور دن بہ دن غیر مقبول ہونے کی وجہ بنتا جارہا ہے ۔ حال ہی میں چھورکا کے کئی درجن گھرانوں نے تحریک انصاف چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوگئے ہیں اور ابھی مزید لوگ مسلم لیگ میں شامل ہونے والے ہیں۔ شگر میں اس سیاسی قلابازی کے منفی اثرات دوسرے حلقوں پر بھی پڑنے کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ میری نظر میں اب وقت آگیاہے کہ شاہ صاحب بذات خود اپنی طرف سے یہ واضح بیان دے کہ تحریک انصاف کے ممبران کو انتخابات کے لئے ٹکٹ دینے کا کوئی فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے اور وہ اس پارٹی ٹکٹوں کو کباڑی کا مال یا ریوڑی بننے نہیں دیں گے اور کسی بیک ڈور سے دئے جانے والے ٹکٹ کو بحیثیت پارٹی کے سب سے زیادہ ذمہ دار صدر کے ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ان مسائل سے اچھی طرح نبٹنے اور حالات کو تحریک انصاف کی کامیابی کے لئے صحیح سمت میں رکھنے کے لئے بلتستان میں ڈویژنل اور ضلعی سطح پر اب وقت ضایع کئے بغیرتنظیم سازی کی اشد ضرورت ہے ۔ اس میں اگر دیر ہوی تو شاید حالات شاہ صاحب کے ہاتھ سے نکل جائے ۔

تحریر: سید محمد عباس کاظمی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website