کوئٹہد(ویب ڈیسک /ٹی این این) انسداد دہشت گردی عدالت نے زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس میں تمام گرفتار ملزمان کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کر دیا ہے۔ کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس کی سماعت کی، فریقین کے دلائل سنننے کے بعد عدالت نے تمام گرفتار ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر باعزت بری کر دیا۔ کیس میں حربیار مری سمیت 33 ملزموں پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جب کہ ناصر مری نامی ایک ملزم 2015ء میں دوران علاج دم توڑ گیا تھا۔ واضح رہے کہ 2013ء میں زیارت میں شر پسندوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیام گاہ ’زیارت ریزیڈنسی‘ میں گھس کر وہاں مختلف حصوں میں بم نصب کر کے اسے تباہ کرنے کی کوشش کی، دھماکوں کے نتیجے میں عمارت میں آگ لگ گئی جب کہ شرپسندوں نے ’ریزیڈنسی‘ میں ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ اس کے علاوہ حملہ آوروں نے ریزیڈنسی پر راکٹ بھی فائر کیے۔ واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل داؤد بادینی جیسے دہشتگردوں کو بھی عدالت سے رہائی کا پروانہ مل چکا ہے۔
زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس، انسداد دہشت گردی عدالت نےتمام گرفتار ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا