گلگت( تحریر نیوز) گزشتہ کئی ماہ سے چھکروٹ گاشو کے جنگلات کی بے دردی سے کٹائی ہورہی ہے لیکن شہر اقتدار کے مکین محکمہ جنگلات یا تو بلاوسطہ اس جرم میں برابر کے شریک ہیں یا محکمے کے ذمہ داروں کو تنخواہ اور مراعات کی وصولیوں کے علاوہ دیگر ذمہ داریوں کو نبانا اچھے نہیں لگتے۔ تفصیلات کے مطابق گاشو کے جنگلات کی کٹائی کے بعد کئی ہزار فٹ ٹمبر پانی کے ذریعے منتقل کیا جارہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وزیر جنگلات سمیت فارسیٹ کے دیگر ذمہ داران نے آنکھیں بند کرکے صرف کمیشن وصول کرنے کو ہی ذمہ داری سمجھ بیٹھا ہے۔ جنگلات کی کٹائی کے اس عمل کو نہیں روکا گیا تو گلگت بلتستان میں ویسے بھی ماحولیاتی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے مزید بڑھ سکتا ہے۔
چیف سیکرٹیری کو چاہئے کہ اس معاملے کی چھان بین کریں اور اس جرم میں ملوث افراد کو کڑی سزا دیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا