گلگت بلتستان لمبے بالوں والے کے باپ کی جاگیر نہیں۔

0 0

پچھلے دنوں پی ٹی آئی کے سکردو میں ہونے والے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جب علی امین گنڈا پور صاحب سی ایم جی بی پر خوب گرج برسے تو حفیظ الرحمان صاحب بھی چب نہ رہ سکے اور جواب میں فرمایا کہ گلگت بلتستان لمبے بالوں والے کے باپ کی جاگیر نہیں ہے ۔ یہ محض ایک جملہ نہیں ہے نہ ہی سی ایم صاحب یہ جملہ ضد برائے ضد میں آکر بول گئے ہیں بلکہ اس ایک جملے کے پیچھے وہ تمام راز ہیں جو خطہ بے آئین کے تمام مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں اور ہمارے چنے ہوئے سیاسی لیڈران کی بے بسی بھی اسی ایک جملے میں پنہا ہے ۔ یہ جملہ ایسے ہی منہ سے نہیں نکلا ہے بلکہ اس جملے کے پیچھے چھپا درد-دور حاضر میں سی ایم صاحب سے بڑھ کر کوئی محسوس اس لئے بھی نہیں کر سکتا کہ جس اقتدار کی کرسی پر وہ بیٹھے ہوئے ہیں اس کے سکروز کو وقتا فوقتا ڈیھیلا کیا جارہا ہے اور روز بروز کرسی کی حالت گیر ہوتی جارہی ہے اور یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوئے دیکھتے ہوئے بھی سی ایم صاحب کچھ کر نہیں پارہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کرسی کو کمزور کرنے کیلے ڈوریں کہاں کہاں سے ہلائی جاتی ہیں اور انہیں اس لسٹ میں موجود تمام ناموں کا بھی بخوبی علم ہے جنہوں نے ماضی میں ان پیراشوٹ پر آئے ہوئے لمبے بالوں والوں کیساتھ ملکر اس کرسی کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔

لمحہ فکریہ یہ نہیں کہ وزیر امور کشمیرو گلگت بلتستان ہمیشہ ہمارے سی ایم پہ بھاری کیوں کر پڑھتا ہے لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ ہر چڑھتی سورج کے آگے ہمارے سیاستدان اس قدر پجاری کیونکر بنتے نظر آتے ہیں کہ سورج کی تپش انہیں کہیں کا نہیں چھوڑتی اور جلن جب حد سے بڑھ جائے تو ان کی چیخیں تو نکلتی ہیں مگر جب وقت بدل جاتا ہے تو یہی لوگ اس کاروان کا ایک بار پھر حصہ بنتے ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ گلگت بلتستان کے تمام تر اندرونی معاملات کے متعلق فیصلے یہاں کی اسمبلی خود کرے اور وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان ان معاملات میں بے جا دخل اندازی نہ کریں مگر ہر چھوٹے بڑے فیصلے میں وزیر موصوف کے جپھکنے کے پیچھے بھی کئی وجوہات ہیں اور سب سے بڑی وجہ خود ہمارے ہر دور کے اپوزیشن کے سیاستدان ہیں ۔ یہ جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو اس وزارت کو لیکر صوبائی اسمبلی کی ٹانگیں کھیچنے میں کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے مگر جب وقت کروٹ کھاتا ہے اور ایسی ہی صورتحال کا سامنا انہیں خود کرنا پڑتا ہے تو پھر واویلا مچاتے ہیں ۔ ہمارے سی ایم صاحب شاید بھول گئے ہیں جب وفاق میں ن لیگ اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو کیسے انہوں نے لمبے بالوں والے برجیس طاہر کیساتھ ملکر یہاں کی اسمبلی کے ناک میں دم کر کے رکھ دیا تھا ۔

گلگت بلتستان اور وفاق میں الیکشن ایک وقت پہ نہ ہونے کی وجہ سے جب بھی وفاق میں الیکشن ہوکر حکومت تبدیل ہوتی ہے تو گلگت بلتستان کی حکومت بے ساکھیوں کا سہارا لیتے نظر آتی ہے ۔ وفاق اپنی مرضی کا گورنر اور وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان معین کرتی ہے تو یہ دونوں صاحبان نہ صرف برملا الیکشن ہائی جیک کرنے کے نت نئے منصوبے بناتے ہیں بلکہ مخالف پارٹیز کے عوامی نمائندوں کو یہ دونوں صاحبان منہ تک نہیں لگاتے اس بات کا اقرار ہمارے سیاستدان وقتا فوقتا خود بھی کرتے ہیں کہ اب وفاق میں ہماری حکومت نہیں رہی جس باعث ہمارے پلے اب کچھ نہیں رہا ۔
ایسے میں مورد الزام کسی خاص شخص یا مخصوص سیاسی پارٹی کو ٹھرانا اسلئے بھی ممکن نہیں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔ تمام سیاسی پارٹیز کے لیڈران کو چاہیے کہ اپنی ماضی کی غلطیوں کو پرکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ سیاسی اختلافات کے بنا ء پر اور سیاسی فوائد کے حصول کیلیے شارٹ کٹس پہ بھروسہ نہ کریں اور اخلاقی اقدار کو وقتی فوائد پہ کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے لوگوں کے چنے ہوئے امیدواروں کو آزادانہ فیصلے کرنے دیں تاکہ ووٹ کو عزت ملے اور ووٹر جب اگلی باری ووٹ دینے پولنگ سٹیشن کا رخ کرنے لگے تو اس یقین کیساتھ نکلے کہ ان کا ووٹ لیکر جیتنے والا امیدوار اگلے پانچ سال بے بسی کا رونا نہیں روئے گا ۔

تحریر : ایڈووکیٹ حیدر سلطان

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website