گلگت(ٹی این این)عوامی ایکشن کمیٹی کا اجلاس گلگت میں ہوا اجلاس میں گلگت بلتستان کے لوکل اداروں میں ہونےوالی زیادتیوں کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے قومی ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیے گئے ہیں سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کا قومی اور بالائی ادارہ ہے اس ادارے کو کشمیر سپریم کورٹ کے طرز پر استوار کرایا جائے گا.
اجلاس میں کہا گیا کہ پاور شیئرنگ فارمولے کے تحت چاروں صوبوں اور وفاق سے آنے والے ملازمین کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں مگر پاور شیئرنگ فارمولے کو سبوتاژ کرتے ہوئے لوکل تعلیم یافتہ نوجوانوں کے رزق مارنے کی صورت میں عوام کو زیادتی سے آگاہ کرنا عوامی ایکشن کمیٹی کی ذمداری ہے
اور کچھ ادارے گلگت بلتستان کے قومی ادارے ہیں جن میں کسی پاور شیئرنگ فارمولے کا اطلاق نہیں ہوتا اس کے باوجود سینکڑوں افراد کو لاکر کھپایا گیا ہے جو کہ گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے
سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کے انتظامی معاملات کو متنازعہ طرز پر ترتیب دیا جانا ہوگا
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اگلے لائحۂ عمل کے طور 25 اکتوبر کو گلگت میں عوامی جلسہ منعقد کیا جائے گا اور اس سے قبل روابط کے سلسلے کو جاری رکھا جائے گا.
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی کی پوری کابینہ ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہے عدالت کی توہین کے نام سے کارروائی کا دھمکی دینے والے عوامی توہین سے باز رہے ہم عدالت کو کسی صورت چراگاہ بننے نہیں دینگے.
اجلاس میں کہا گیا کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ کی جانب سے محکمہ اطلاعات کیلئے جاری کیئے جانے والا لیٹر در حقیقت جہاں آذادی صحافت پر حملہ ہے وہی گلگت بلتستان کے عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے
ان مسائل کے حل کیلئے ضروری پڑی تو سپریم کورٹ آف پاکستان بھی جائیں گے اور عوامی عدالت بھی سجایا جائے اجلاس میں چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس و دیگر ایکزیکٹیو باڑی و یوتھ ایکشن کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی.
عدالتوں کو کسی صورت چراگاہ بننے نہیں دینگے، 25 اکتوبر کو گلگت میں جلسہ حتمی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا اعلان
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا