کٹی داس کے مقام پرمشہ بروم بس حادثے میں جاں بحق غریب شخص کے گھر والے فاقہ کشی پر مجبور۔

0 0

سکردو(پ،ر)سانحہ بابوسر مشہ بروم بس ایکسیڈینٹمرحوم سخاوت ولد شکور ساکن قمراہ گاوں شوت جوکہ کہ اس حادثے کی نظر ھو چکی ہے۔ہوٹل سنو لینڈ میں ویٹری کررہا تھا سکردو میں ہوٹلوں کا سیزن ختم ہونے کی وجہ سے اسی بس میں پنڈی جاررے تھے تاکہ اپنی فیملی کو سہارہ دے سکے۔ مرحوم کےبیمار والدہ،بوڑھا باپ،چار چھوٹے بھائی،تین چھوٹی بہنیں بیوہ اور اپنی دو چھوٹی بیٹوں کا واحد کفیل تھے لیکن حادثے کا شکار ہوگیا۔اس وقت مرحوم کے گھر والوں جہاں افاقے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں وہیں بچوں کے فیسوں کی ادائیگی ناممکن ہوچُکی ہے۔ جاںبحق شخص سخاوت کی والدہ کافی عرصے سے کڈنی آپریشن کی وجہ سے سخت بیمار ہے اور اس وقت والدہ کو بھی دوائیوں اور علاج بہت ضروریہے۔مرحوم سخاوت کی بیوہ جو کہ اس اچانک حادثے کی وجہ سے ذہنی مریض بن چکیہےاور دماغ کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔
مرحوم کے پاس رہنے کو گھر بھی نہیں تھے اُنہیں دو کمروں پر مشتمل ایک گھر جو کہ ایک این جی او نے بنا کر دی ہے اسکی حالت بھی خستہہوچکی ہے ۔
لیکن سانحے کے بعد جہاں مشہ بروم کی بسوں نے چلنا شروع ہوگیا سیاسی طاقت کی بنیاد پر دفاتر بھی کھل گئے لیکن حادثے میں جاںبحق اس قسم کے غریبوں کی گھر والوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس قسم کے حادثات کی صورت میں اصولی طور پر بس مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مرنے والوں زخمیوں کو حکومتی سطح پر اور کمپنی کی جانب سے معاوضوں کی ادائیگی کی جاتی ہے لیکن گلگت بلتستان میں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے مصداق ہر قسم کے قوانین صرف غریب پر لاگو ہوتی ہے۔ طاقتور طبقہ جرم کرے یا قتل اُنہیں معافی مل جاتی ہے۔ عوامی حلقوں میں شدید احتجاج کے باوجود مشہ بروم بس حادثے کو ایک طرح سے مکمل طور پر دبایا جارہا ہے اور اسپیکر فدا محمد ناشاد کی جانب سے اعلان کے باوجود حادثے میں جاںبحق ہونے والے اس طرح کے غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔
تمام مخیر حضرات حکومت وقت اورمشہ بروم کمپنی کو چاہئے کہ اس غریب گھرانے کی مدد کریں
کسی طرح مالی یا کسی بھی قسم کا وہ مجھ سے رابطہ کریں ۔
-03459906216 03555202075

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website