بلتستان کےتحصیل گلتری سےپچانوے فیصد لوگوں نے ہجرت کیوں کیا؟ تحریر نیوز کی خصوصی رپورٹ

1 0

سکردو(ٹی این این )گلگت بلتستان کا خوبصورت اور ویران علاقہ گلتری جہاں سے %95 ابادی علاقے میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں”چند دن پہلے گلتری سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی اقبال علی کمال کے خط کا دوسرا رخ کچھ اس طرح سے ہے ان کا کھلا خط سے اقتباس” سابق ڈپٹی چیف ایگزیکٹو گلگت بلتستان و موجودہ سپیکر قومی اسمبلی پانچ بار گلتری کے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے حاجی فدا محمد ناشاد صاحب کے نام ایک کھلا خط لکھا جس میں انہوں نے ان کے ترقیاتی کاموں کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ گلتری کے چند ٹھیکیداروں کو مالی فائدہ دے کر اور ان لوگوں کے زریعے سیاسی مفادات حاصل کرتارہا ہے۔ جبکہ حقیقت بلکل اس کے برعکس ہے یہی لوگ (ٹھیکداران) علاقہ گلتری میں عرصہ دراز سے سرداروں کی حیثیت رکھتے ہیں علاقہ گلتری میں انہی لوگوں کاسکہ چلتا رہا ہے ان لوگوں نے کبھی علاقے کے اجتماعی مفادات کی طرف توجہ نہیں دی۔جن میں تعلیمی مسائل، صحت کے مسائل زرائع آمدورفت، زراعت سے متعلق مسائل اور دیگر تمام مسائل وغیرہ، یعنی عوامی سطح کے مسائل کو یکسر نظر انداز کر کے ان لوگوں نے اپنے انفرادی کاموں اور مفادات کو اولین ترجیح دی اور آج تک یہ لوگ ماضی میں بھی اور آج بھی اپنے زاتی مفادات کے لئے عوامی مسائل کا سودا کرتے رہے ہیں۔ یہ حلقہ نمبر 3 کے ہر جیتنے والے سیاسی جماعت کے نمائندوں کو اپنے زاتی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں یہی لوگ گرگٹ کی طرح اپنی شکلیں بدل بدل کر سیاسی نمائندوں کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔ اور سیاسی اور سرکاری سطح پر علاقہ گلتری کے اجتماعی مسائل پر پردہ ڈال کر اپنے زاتی مفادات اور ترجیحات کو سامنے کرکے فائدہ لیتے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے علاقہ گلتری میں بنیادی اور اہم وسائل جن مین تعلیم،صحت، ٹرانسپورٹ ، مواصلات اور زرعی وسائل جیسے اہم وسائل کے فقدان کی وجہ سے یہاں کے لوگ پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، اور آج علاقہ گلتری کے ٪95 لوگ یہاں سے ہجرت کرگئے ہیں۔اور ہجرت کرنے کا سلسہ تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے نام سے جتنی بھی سرکاری املاک ہیں ان میں سے اکثریتی سرکاری عمارتوں کا پی۔سی۔فور تاحال منظور نہیں ہیں ان املاک میں سکولز، ہسپتال، ڈسپنسریاں، سڑکیں، بجلی گھر،گندم کے ڈپو، وغیرہ تمام کا پی۔سی۔فورز منظور کروائے جاتے تو آج علاقہ گلتری میں سینکڑوں ملازمتیں نکل جاتی لوگوں کو روزگار مل جاتا۔ لوگ ہجرت کرنے کو اہمیت دینے کے بجائے علاقے میں بسے رہنے کو ترجیح دیتے۔ آج علاقہ گلتری بھی بلتستان کے دیگر علاقوں کی طرح خوشحالی اور گنجان آباد علاقہ ہوتا۔ علاقہ گلتری جو آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے ایسی نوبت دیکھنے کو نہ ملتی آج جبکہ اگلے دو سے تین سالوں میں علاقہ گلتری مکمل خالی ہونے کے قوی امکانات ہیں لیکن اب بھی سرکاری عمارات کی تعمیر کے لئے کروڑوں کے منصوبے رکھے گئے ہیں جن کافائدہ صرف ٹھیکیداروں کو ہی ہوگا ان عمارات کی تعمیر سے یہاں کے عوام کو کوئی فائیدہ نہیں رہا جو عمارتیں پہلے سے کروڑوں روپے خرچ کر کے بنائی گئی تھیں وہ آ ج ویران پڑی ہیں جب مکین ہی نہ رہے تو خالی مکان کا کام کا؟ لہذاء سیاسی نمائندوں اور حکومت علاقہ گلتری میں کروڑوں روپے تعمیرات پر خرچ کرنے کے بجائے اس وقت سکردو میں علاقہ گلتری کے مہاجرین کی کثیر آبادی جہاں جہاں مقیم ہیں وہاں پر ضرورت کے مطابق مڈل اور ہائی سکول کی عمارات، ڈسپنسری اور چھوٹے ہسپتال، انٹر کالج اور ہنرمند پاکستان کے نعرے کے تحت ٹیکنیکل سنٹرز بنایا جائے تو شہر سکردو کی ترقی میں خاصا حدتک ان لوگوں کا حصہ ہوگا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website