سانحہ مشہ بروم بس حادثہ، 27 افراد کی زندگیوں کے حساب کا دفتر بند،عوامی نمائندے خاموش۔

0 0

سکردو(ٹی این این) ضلع دیامر بابو سرکٹی داس کے مقام پر مشہ بروم بس حادثے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کیلئےڈپٹی کمشنر سکردو خرم پرویز کی جانب لکھے گئے خط کو سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر دبانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اُس المناک حادثے کے بعد ڈپٹی کمشنر کی حکم پر مشہ بروم کے دفاتر سیل کرنے اور دوسرے ہی دن وزیر اعلیٰ کی مداخلت پر دفاتر کھولنے اور سروس بحال کرنے پر بلتستان ریجن کے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ کی لہر ڈور گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے غیر منصفانہ اقدام اور گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران کا اس حوالے سے مکمل خاموشی نے غمزدہ خاندانوں کو مزید غمزدہ کردیا ہے۔ گلگت بلتستان کی تاریخ کے اس المناک حادثے کے ذّمہ داران کی تعین اور مرنے والوں کو معاوضہ دلانے اور اور زخمیوں کی علاج اور معاوضےکیلئے حکومت اور مشہ بروم بس سروس کی جانب ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد کسی قسم کا اقدام نہیں اُٹھا یا گیا ہے جبکہ زخمیوں کے گھر والے اپنی مدد آپ کے تحت علاج کرنے پر مجبور ہیں۔ متاثرین اور لواحقین سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی روئے کے خلاف مسلسل احتجاج کرتے نظر آتا ہے۔ لواحقین اور زخمیوں کے خاندانی افراد نے اس المناک واقعے پر گورنر گلگت بلتستان راجہ،اپوزیشن لیڈر،مرکزی خطیب امامیہ جامع مسجد سکردو کی مکمل خاموشی حیران کن قرار دیا ہے۔ دوسری طرف سول سوسائٹی، عوامی،سیاسی،سماجی اور کے حلقوں میں بھی وزیر اعلیٰ کے جانبدارانہ اقدام پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ سکردو میں سول سوسائٹی کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر سکردو خرم پرویز کی جانب سے اعلٰی سطحی انوسٹی گیشن کی سفارشات کے باوجود معاملے کو دبایا جارہا ہے انصاف نہ ملنے کی صورت میں عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا جائے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website