سکردو(ٹی این این) ضلع دیامر بابو سرکٹی داس کے مقام پر مشہ بروم بس حادثے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کیلئےڈپٹی کمشنر سکردو خرم پرویز کی جانب لکھے گئے خط کو سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر دبانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اُس المناک حادثے کے بعد ڈپٹی کمشنر کی حکم پر مشہ بروم کے دفاتر سیل کرنے اور دوسرے ہی دن وزیر اعلیٰ کی مداخلت پر دفاتر کھولنے اور سروس بحال کرنے پر بلتستان ریجن کے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ کی لہر ڈور گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے غیر منصفانہ اقدام اور گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران کا اس حوالے سے مکمل خاموشی نے غمزدہ خاندانوں کو مزید غمزدہ کردیا ہے۔ گلگت بلتستان کی تاریخ کے اس المناک حادثے کے ذّمہ داران کی تعین اور مرنے والوں کو معاوضہ دلانے اور اور زخمیوں کی علاج اور معاوضےکیلئے حکومت اور مشہ بروم بس سروس کی جانب ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد کسی قسم کا اقدام نہیں اُٹھا یا گیا ہے جبکہ زخمیوں کے گھر والے اپنی مدد آپ کے تحت علاج کرنے پر مجبور ہیں۔ متاثرین اور لواحقین سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی روئے کے خلاف مسلسل احتجاج کرتے نظر آتا ہے۔ لواحقین اور زخمیوں کے خاندانی افراد نے اس المناک واقعے پر گورنر گلگت بلتستان راجہ،اپوزیشن لیڈر،مرکزی خطیب امامیہ جامع مسجد سکردو کی مکمل خاموشی حیران کن قرار دیا ہے۔ دوسری طرف سول سوسائٹی، عوامی،سیاسی،سماجی اور کے حلقوں میں بھی وزیر اعلیٰ کے جانبدارانہ اقدام پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ سکردو میں سول سوسائٹی کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر سکردو خرم پرویز کی جانب سے اعلٰی سطحی انوسٹی گیشن کی سفارشات کے باوجود معاملے کو دبایا جارہا ہے انصاف نہ ملنے کی صورت میں عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا جائے گا۔
سانحہ مشہ بروم بس حادثہ، 27 افراد کی زندگیوں کے حساب کا دفتر بند،عوامی نمائندے خاموش۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا