سکردو(ٹی این این) مشہ بروم کمپنی کے بس کو ضلع دیامر کے کٹی داس کے مقام حادثے کی وجہ سے 26 افراد کی موت اور ایک درجن سے زائد شدید زخمی ہونے کے بعد ضلع انتظامیہ سکردو نے مشہ بروم کے دفتر کو سیل کردیا تھا لیکن صرف دو بعد ہی حکومی مداخلت پر سروس بحال کردی گئی۔ مشہ بروم بس حادثے میں اب تک 27 افراد جاں بحق ہوچُکے ہیں اور کئی افراد شیدید زخمی ہے اور زخمیوں کی علاج کیلئے بھی حکومتی سطح پر کوئی امداد نہیں کی جارہی اور نہ ہی جاں بحق اور زخمیوں کو معاوضہ دینے کی بات ہورہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیشہ کی طرح اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی فدا محمد ناشادجو مشہ بروم ٹرانسپورٹ کا سب سے ذیادہ شئیر ہولڈر ہے کی سفارش پر وزیر اعلیٰ کے نام سے شفارشات کو بنیاد پر مشہ بروم کے دفتر کھولنے اور بس سروس کی بحالی کا نوٹفیکشن جاری کردیا ہے۔
عوامی حلقوں میں اس حوالے سے شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے نوٹفیکشن کی کاپی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی عوام میں گلگت بلتستان میں سرکاری اداروں کی بے بسی اور سیاسی اثر روسوخ کی بنیاد پر اتنے بڑے حادثے کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے پر شدید غم اور غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔گلگت بلتستان یوتھ الائنس کے چیرمین مولانا شخ محمد حسن جوہری نے فورس کمانڈر گلگت بلتستان جنرل احسان محمود، گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال، اور چیف جج سپرم اپلیٹ کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا