گلتری سے تعلق رکھنے والے صحافی کا اسپیکر فدا محمد ناشاد کے نام کھلا خط، سخت سوالات کا جواب طلب۔

0 0

سکردو(اقبال علی سالک)حاجی فدا محمد ناشاد صاحب۔ یہ غالبا 96 ۔1995 کا سن تھا جب آپ تحریک جعفریہ پاکستان TJP کے امیدوار وزیر شکیل کے خلاف الیکشن کی مہم کیلئے گلتری بنیال تشریف لائے تھے۔ تب آپ پی پی پی کے امیدوار تھے۔
اور اس وقت PPP کا جیالا موسی علی المعروف بہار آپ کو پھولوں کا ہار پہناکر اپنے کندھوں پر اٹھا ئے حاجی یعقوب صاحب کے گھر سے امام باگاہ حسینی کے باہر جلسہ گاہ لایا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ عوام کا ہجوم آپ کے حق میں فلک شگاف نعرے لگا رہا تھا آر کرینگے پار کرینگے پھول کے ٹکڑے چار کرینگے قدم بڑھاو ناشاد, ہم تمہارے ساتھ ہیں’ اور تب سے آپ نے قدم بڑھانے شروع کئے اور مسلسل دو دہائیوں سے واضح اکثریت کیساتھ گلتری سے جیتے آئے ہیں۔ اور نتیجتہ آج آپ گلگت بلتستان لیجسلیٹیو اسمبلی کی انتہائی اہم نشست پر براجمان ہیں۔اللہ سے دعا ہے آپ کے نصیب اور اور حالات اور بہتر ہوں۔
مجھے نہیں معلوم 1996 میں آپ کے آبائی گاووں حسین آباد کے کیا حالات ہونگے۔ مگر آج کے حسین آباد کے حالات سے میں بخوبی واقف ہوں ۔ آج حسین آباد میں کالج ہے جس میں یونیورسٹی چلا رہے ہیں۔ بوائز سکیندڑی سکول۔ گرلز ہائی سکول
بوائز اور گرلز سکولوں کے لئے الگ الگ بسیں
حسین آباد میں 2 مڈل, 4 پرائمری سکولز
کمیونٹی سینٹر۔ ویٹرنری اسپتال
بیسک ہیلتھ یونٹ(اے کلاس ڈسپبسری) ۔ لائبریری۔ پارک, پی ڈبلیو ڈی, پاور, ایل جی آر ڈی میں 10 سے زائد آر سی, اور سیئر, بی اینڈ آر میں 30 سے 40 گیم قلی اور یہ لسٹ طویل ہے۔
جبکہ دوسری جانب آپ کا حلقہ گلتری جو کم و بیش دو ررجن چھوٹے بڑے موضوعات اور 2 یونین کونسلزپر مشتمل ہے 23 برس قبل جہاں کھڑا تھا آج بھی وہی اٹکا ہوا ہے۔ دلیل۔کے طور پر چند ایک مثالیں پیش خدمت ہیں۔
1991 میں تعمیر شدہ بنیال ہائی اسکول کی بلڈنگ کا پی سی فور تا حال منظور نہیں ہوا جسے اب گنیز بک آف وورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا جا نا چاھئے۔۔۔
شخمہ سے لیکر گلتری تک کے بجلی گھر تعمیر کے بعد سے مسلسل عدم توجہی کا شکار, اور آج بھوت بنگلوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔۔ کیا کوئی انکوائری شروع نہیں کی جانی چاھئے؟
جعلی ووٹروں سے بھری بڑی بسوں کو چلانے کے لئے گلتری کے روڈ چوڑے اور جب بات مستقل بنیادوں پر نیٹکو بس سروس کی بحالی کی بات آتی ہے تو یہیں رستے کیوں تنگ پڑھ جاتے ہیں؟
10 برس سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی بنیال سول پسپتال آپریشنل کیوں نہیں کیا جا سکا۔؟
نہ کمیونٹی سینٹر, ویٹرنٹی ہسپتال, نہ بیسک ہیلتھ یونٹ, نہ ہی پورے علاقے میں کوئی ایمرجنسی ایمبولینس موبائل سروس دستیاب ہے۔ اگر کہیں پر ہیں بھی تو تالے۔۔
علاقے میں صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب ژچگی کے دوران کئی خواتین اس دنیا سے کوچ کر گئیں۔۔ کیا ہر گاووں کی سطح پر ایک لیڈی (دائی) ڈاکٹر کی تعیناتی کو یقینی بنانے میں حکومت کو اربوں روپے درکار ہونگے؟؟
کیا کونر, چھوندو, بباچن, چملونگ, شوارن, ڈوڈھیال, شنگو شگر, گلتری خاص کے بچوں کا حق نہیں کہ وہ پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل کریں ؟ اگر ہے تو ان کو تعلیم کے حصول میں درپیش رکاوٹیں کون دور کرئیگا؟
پورے علاقے میں بچیوں کے لئے ایک بھی مڈل لیول تک کا اسکول نہیں۔ کیا گلتری کی بچیاں محروم اور جاہل رہنے کے لئے پیدا کی جا رہی ہیں۔ ؟؟
مختلف شعبوں میں گلتری کی اسامیوں پر غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنا اور سیاسی اثر رسوخ کے زریعے غیر قانونی طریقے جی بی کے دیگر علاقوں کی طرف انکا ٹرانسفر کرنا گلتری کے عوام کے ساتھ کھلی نا انصافی نہیں۔کون آواز اٹھائے گا ؟
ناشاد صاحب آج ہمارے نوجوان بےروزگار ہیں۔اور تو اور آپ کے دیرینہ دوست بہار موسی’ کا بیٹا گریجویشن کے باوجود آج بے روزگار بیٹھا ہے۔
اور وہ کونسے قابل قدر ترقیاتی منصوبے زیر تعمیر ہیں جن پر آپ نے اطمینان کا اظہار کیا بروقت تکمیل کے حکمنامے صادر فرمائیں؟۔ حقیقت تو یہ ہے, بنیادی انسانی سہولیات کے فقدان ضلعی انتظامیہ کی مسلسل عدم توجہی کے سبب گلتری کی آدھی سے زائد آبادی ہجرت کر چکی ہے۔۔۔
سوائے چند ایک سیاسی individuals کو نوازنے کے آپ نے گلتری کے لئے ان 23 برس میں کیا کچھ کیا ہے؟ ؟
ناشاد صاحب۔ جواب چاھئے۔۔۔
وسلام
اقبال علی سالک

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website