حکومت سے مایوس ضلع کھرمنگ کے شہری نے فورس کمانڈر گلگت بلتستان کے نام خط لکھ دیا۔

0 0

کھرمنگ(ٹی این این خصوصی رپورٹ) جناب جنرل احسان محمود صاحب اسلام علیکم۔
اُمید آپ خیریت سے ہونگے۔آپکی توجہ ہمارے علاقے کے اہم معاشی مسائل کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔موضع غاسنگ دفاعی اعتبار سے اہم ترین ضلع کھرمنگ کا وسیع ترین علاقہ اور معرکہ کرگل کے شہید حسن خان کا تعلق بھی اس وادی سے ہے۔ اس کے علاوہ اس وادی کے جوانوں کی کثیرتعداد آج بھی پاک فوج میں پاکستان کے مختلف محاذوں پر وطن کی دفاع میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس وادی کا نالہ وسیع اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ علاقے کے عوام کی معیشت بھی اس نالے سے مربوط ہیں۔
ماضی بعید میں یہاں کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت دریا سندھ کے پانی کا رخ تبدیل کیا اور بعد کی نسل نے لب دریا سندھ ایک وسیع عریض علاقے کو آباد کرکے پورے غاسنگ کی سطح پر تقسیم کیاجس کی تاریخ سو سال سے بھی زائد بتایا جاتا ہے۔لیکن اس وقت ضلع کھرمنگ انتظامیہ کی نگاہیں اس وسیع رقبے کی طرف ہے انتظامیہ قدیم عوامی زیرکاشت زمینوں کو خالصہ کے نام پر ہتھیانا چاہتا ہے جسکی ابتداء بھی کردی گئی ہے ۔اس حوالے سے یہاں کے عوام میں خدشات پایا جاتا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی پیش نظر حکومت کی جانب سے نئی آبادکاری کوکوئی منصوبہ نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر انتظامیہ کو زمین کی ضرورت ہے تو بجائے عوامی کھیتوں کو استعمال کرنے کے بنجر زمینوں کا آباد کرکے اپنے تصرف میں لائیں۔
اسی طرح شارع کھرمنگ سے متصل (پولی کنال) بھی علاقہ غاسنگ کا قدیم آبائی بندوبستی اثاثہ ہے کئی سو کنال پر مشتمل اس وسیع رقبے پر کبھی کھیت کھلیار ہوا کرتے تھے لیکن آج ویران نظر آتا ہے ۔ اس وسیع رقبے کو آباد کرنے کیلئے بھی ماضی میں کئی بار کوشش تو کی گئی لیکن چند افراد کے مفادات کا شکار ہوگئے اور یہ وسیع رقبہ اہل علاقہ کی معاشرتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت کا منظر پیش کررہا ہے ورنہ اس علاقےکوانتہائی قلیل سرمائے کے ساتھ آباد کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر یہ زمین دوبارہ آباد ہوتے ہیں تو غریب عوام کو معاشی طور پر فائدہ ہونے کے ساتھ حکومت کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اسی طرح موضع غاسنگ نالہ چھوچن(جس کا لفظی معنی ذیادہ پانی والا جگہ ہے) کیونکہ ماضی بعید میں غاسنگ میں منظم کوہل سسٹم نہ ہونے کی اور غاسنگ ندی میں پانی کی کمی سے شدید پانی کی قلت کا سامنا رہتا تھا یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم میں پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے ایک طویل کوہل بہترین دیسی ساختہ واٹر منجمنٹ سسٹم کے تحت منٹھوکھا نالے سے لایا گیا ۔ یوں پانی کا یہ قلت یقینا اُس زمانے کے لحاظ سے کم ہوگیا ہوگا۔ لیکن غاسنگ ٹاون سے صرف چند کلومیٹر فاصلے پر واقع بالائی علاقہ چھوچن جہاں لوئر غاسنگ سے ذیادہ سے لوگوں کی زمینیں گھر بار اور پھلدار اور غیر پھلدار خاص طور خوبانی کے درخت سے مالا مال ہیں۔اس موضع کے بہت سے ایسے خاندان بھی ہیں جن کا ٹاون غاسنگ سے ذیادہ بلائی غاسنگ چھوچن اور اس سے متصل دیگر نالوں میں زمینیں موجود ہیں۔ اور ماضی قریب میں یہاں کے لوگ سال میں چھے ماہ غاسنگ نالے میں کاشت کاری کرتے اور وہیں رہتے تھے آج بھی غاسنگ میں ایسےچندخاندان ہیںجو تمام تر مسائل کے باوجودخاندان کا گزربسراسی چھوچن سےپوراکرتےہیں لیکن سڑک اورسہولیات نہ ہونےکی وجہ سےابھی تک کئی افراد لقمہ اجل بن چُکے ہیں۔اس خوبصورت وادی کی خاص خوبی یہ ہے کہ یہاں کے زمینوں کو چشموں کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے یہاں آلو اور میٹھا مولی خصوصی طور پر اگائے جاتے ہیں اس کے علاہ مٹر بھی یہاں سے اگایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ یہاں سیاحت اور معدنیات کے حوالے سے بھی کثیر مواقع موجود ہیں۔
چھوچن غاسنگ اس وقت حکومت عدم توجہی کے سبب ہر گزرتے دن کے ساتھ ویران ہوتا جارہا ہے کیونکہ مواصلاتی نظام نہ ہونے اور معاشی طور عوام مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے باسیوں کیلئے اس زرعی وادی کومزید آباد رکھنا ناممکن نظر آتا ہے۔ گلگت بلتستان بھر میں ایفاد پراجیکٹ کے تحت بنجر زمینوں کو آباد کیا جارہا ہے لیکن ہمارے گاوں کا یہ خوبصورت آباد علاقہ عدم سہولیات کی وجہ سے غیرآباد ہوتی جارہی ہے
اس وادی تک پونچنے کیلئے دو بار سڑک منظور ہوئے لیکن کرپشن کا شکار ہوگیا اور آج یہ سڑک محکمہ تعمیرات عامہ کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ علاقہ سکردو شہر سے صرف 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے حکومت اگر اس خوبصورت وادی پر توجہ دے تو یہ وادی گلگت بلتستان میں خاص طور پر ضلع کھرمنگ میں زرعی ترقی اور سیاحتی حوالے کے حوالے سے مثالی اور فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ جس کیلئے اولین ضرورت اس خوبصورت وادی تک سڑک کا ہونا ہے ۔لہذا آپ سے گزارش ہے کہ ان تین اہم مسائل کی حل کیلئے علاقے کے غریب عوام کا ساتھ دیکر دعائیں لیں۔
علاقے کے عوام کا مطالبہ ہے کہ
1- غاسنگ میں لب دریائے سندھ آباد زمینیں ضلعی انتظامیہ کے تصرف میں لانا کسی بھی حوالے سے عوام کے مفاد میں نہیں لہذا اسے روکا جائے۔
2- پولی کنال کی بحالی کیلئے دریائے سندھ سے باآسانی پائپ کے زریعے پانی نکالا جاسکتا ہے لہذا اس اہم زرعی رقبے کی آبادکاری میں کردار ادا کریں۔
3- غاسنگ نالہ چھوچن تک سڑک کی تعمیر اور بجلی کی فراہمی کیلئے کردار ادا کرکے شکریہ کا موقع دیں۔

آپکا خیراندیش
شیر علی انجم
کالم نگار،سوشل ایکٹوسٹ

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website