وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب مودی کے نام اہم پیغام،اقوام متحدہ میں کیا تقریر کرنے والے ہیں بتا دیا۔

0 0

اسلام آباد (ویب ڈیسک/ٹی این این )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے نریندر مودی سے بہت بڑی غلطی ہو گئی اور اب یہ کشمیر کے لوگوں کی آزادی کے لیے تاریخی موقع بن گیا ہے ،اب میں خود کشمیر کا ایمبیسڈر بن کر دنیا کو بتاؤں گا کہ کشمیر پر بھارت کس طرح ظلم کر رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی لوگ خبریں سن کر مایوس ہو رہے ہیں کہ مسلمان ملک کشمیر کے معاملے پر ساتھ نہیں دے رہے ،انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ۔قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں بڑے بڑے فرعون آئے لیکن انہوں نے تکبر کر کے ایسی غلطیاں کیں کہ تباہ ہو گئے ،نپولین اور ہٹلر تکبر کی وجہ سے تباہ ہوئے ،مودی بھی تکبر کر رہا،اس کا خیال ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں فوج بھیج کر پوری طاقت سے کشمیریوں کو دبائیں گے اور پاکستان پر آزاد کشمیر سے دہشت گرد بھیجنے کا الزام لگا کر یہاں پر بھی بالا کوٹ کی طرح حملہ کریں گے تاکہ دنیا کی کشمیر سے توجہ ہٹ کر پاکستان پر آجائے لیکن ہم نے دنیا کو بروقت اس سے آگاہ کر کے ان کی سازش ناکام بنا دی ۔انہوں نے کہا کہ اب ساری قوم کو کشمیر کے ایشو پر یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہے ،کچھ مسلمان ممالک کے کشمیر کے ساتھ کھڑے ہونے پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ،آج اگر یہ ملک اپنی مجبوریوں یا تجارت کی وجہ سے کشمیر کے ساتھ نہیں کھڑے تو کل یہ کشمیر کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے ۔کشمیر پالیسی کا فیصلہ کن وقت آگیا ہے ۔ جب ہماری حکومت آئی تو امن پہلی کوشش تھی تاکہ نوکریاںبڑھائیں ،ہمارے مسئلے وہ ہی ہیں جو بھارت کے مسائل ہیں،بھارت سے بات کی کہ آپ ایک قدم لیں ہم دو لیں گے کشمیر مذاکرات سے حل کر لیں گے لیکن شروع سے مسئلے آنے شرو ع ہو گئے ،ہم مذاکرات کی بات کرتے تو وہ کوئی اور بات کرتے تھے ہم نے سمجھا الیکشن آرہے ہیں اس لیے بھارت میں اینٹی پاکستان مہم چلنی تھی اس لیے ہم پیچھے ہٹ گئے ۔انہوں نے کہا کہ اس دوران پلوامہ حملہ ہوا ،کشمیری نوجوان نے اپنے آپ کو اڑا دیا ،بجائے بھارت اس کا جائزہ لیتا کہ نوجوان کیوں اپنے آپ کو بم بنا تا ہے لیکن انہوں نے بوجھ پاکستان پر ڈالا ،ہم نے ان سے ثبوت مانگے پھر ہم آرام سے بیٹھ گئے الیکشن کا انتظار کیا کہ الیکشن کے بعد بات چیت کے لیے تیار ہو جائیں گے لیکن الیکشن کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف لابنگ کی اور بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کی ہم نے دیکھا یہ کسی اور ایجنڈے پر ہے ۔مودی سرکار آر ایس ایس کے نظریے پر ہیں جو کہ ہندوستان میں صرف ہندووں کی حکمرانی کا نظریہ رکھتے ہیں ،نریندر مودی بھی بی جے پی سے پہلے آر ایس ایس کا حصہ تھے ،یہ ایک فاشسٹ جماعت ہے ،کانگریس حکومت میں بھارتی وزیر داخلہ نے آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظم قرار دیا تھا ۔دوسری جانب ہم مسلمان نبی ﷺکے نظریے پر ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم کواطلاع ملک چکی تھی بھارت آزاد کشمیر میں کچھ کرنے لگاہے جس پر ہماری فوج پوری طرح تیار ہوچکی تھی اور اب بھی ان سے کچھ کرنامشکل ہوگا لیکن ہم پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کابھی شکرگزار ہوں کہ اس نے مسئلہ کشمیر کے تناظر میں بہترین کردار ادا کیا اور آئندہ بھی ادا کرے اور اس معاملے کوعالمی سطح پر اجاگر کرے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم ساری قوم نے مل کر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ، وہ اس وقت بڑی مشکل میں ہیں،ہندوستان کی حکومت ایک عام حکومت نہیں ہے یہ اس نظریہ پرچل رہی ہے جس نظریے نے اس سے پہلے دنیا میں بڑی تباہی مچائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سارے حکمرانوں کے سامنے مسئلہ کشمیر اٹھاؤں گا اور دنیا بھر میں رابطے کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ بعض مسلمانوں ملکوں کی جانب سے بات نہ کرنے کی وجہ سے مایوسی ہوتی ہے لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، وقتی طور پر کچھ تجارت اوردیگر معاملات کی وجہ سے مجبوریاں ہوتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہوجائیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج عالمی میڈیا کشمیر کے مسئلے کو اٹھارہاہے ، وہ اٹھاتے جائیں گے اور جیسے ہی کشمیر سے کرفیواٹھا ہم بھی یہ دنیا کو بتائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے اس خطاب کامقصد یہ ہے کہ کوئی کشمیریوں کا ساتھ دے نہ دے لیکن ہم نے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ۔ہم ہرہفتے کشمیریوں کے لئے ایک ایونٹ کریں گے جس میں ساری قوم آدھے گھنٹے کیلئے کشمیریوں کے لئے کھڑی ہوگی ۔ اس جمعہ کو بارہ سے ساڑھے بارہ بجے تک ساری قوم نکلے گی اور اگلے ہفتے ہم بتائیں گے کہ ہم کیا کریں گے ؟انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس تک یہ کام کریں گے تاکہ دنیا کو پتہ چلے گا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے تکبر میں آکر آخری پتہ کھیل لیاہے اور ان کے پاس کرنے کو اب کچھ نہیں ہے ، اب ہم کریں گے اور دنیا کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کے ساتھ اقوام متحدہ طاقتور کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ، مشرقی تیمور کا ریفرنڈم دیکھ لیں ، ان کوآزاد کروا لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف پاکستانی نہیں بلکہ سواارب مسلمان اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں ، یہ عالمی طاقتو ں کی ذمہ داری ہے کہ دیکھیں وہ کشمیریوں کیلئے کیا کرتے ہیں؟ اس وقت دو ایٹمی ملک آمنے سامنے ہیں اگر جنگ ہوگئی تو تباہی صرف یہاں نہیں پہلے گی بلکہ دنیا میں اس کے اثرات جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ساتھ دے یا نہ دے ہم اب کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ آخری سانس اور آخری حد تک جائیں گے ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website