اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/ٹی این این) پاکستان کی حکومت نے کشمیر سے متعلق بیان دینے والے اپنے شہریوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش پر ٹوئٹر کی انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے۔وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے ڈیجیٹل میڈیا ارسلان خالد نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹوئٹر کے علاقائی دفتر میں سرکاری سطح پر شکایت دائر کرتے ہوئے اکاؤنٹس معطل کرنے کی وضاحت مانگی ہے۔غیر مُلکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹوئٹر کو 200 سے زائد اکاؤنٹس کی تفصیلات دی ہیں اور ٹوئٹر سے ان اکاؤنٹس کو فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ ٹوئٹر کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی سیاسی بحث پر قدغنیں لگائیں اگر 23 اگست تک ٹوئٹر کی انتظامیہ جواب نہیں دے گی تو حکومت شواہد کے ساتھ متعلقہ فورم پر بھی جائے گی۔
سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے شکایت کی ہے کہ کشمیر سے متعلق مواد شائع کرنے پر ان کا اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا ہے۔ٹوئٹر کے اس اقدام کے بعد پاکستان میں ’اسٹاپ سسپینڈنگ پاکستانیز‘ (StopSuspendingPakistanis#) کا ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔ جبکہ ٹوئٹر کی جانب سے کشمیر سے متعلق مواد شائع کرنے والے اکاؤنٹس کی بندش پر کوئی ردّ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ٹوئٹر نے جولائی سے دسمبر 2018 کے درمیان بھارت کی جانب سے موصول ہونے والی 422 درخواستوں میں 18 فی صد پر عمل کرتے ہوئے متعدد اکاؤنٹس بلاک کیے جب کہ دوسری جانب اس عرصے میں پاکستان کی جانب سے کی گئی تمام درخواستوں کو مسترد کیا تھا۔
جموں کشمیر کی صورت حال پر مواد کی ا شاعت جرم،ٹیوٹر نے پاکستانیوں کے کاونٹس معطل کرنا شروع کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا