گلگت(ٹی این این) قراقرم نیشنل مومنٹ نے آج چار بجے 5 اگست کو موودی سرکار کی جانب سے جموں کشمیر لداخ میں آڑٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A کی زبردستی خاتمے اور اُس کے بعد جموں کشمیر لداخ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقوام متحدہ کی خاموشی اور گلگت بلتستان کے مسائل پر ایک خصوصی پریس کانفرنس کرنی تھے جسے گلگت بلتستان کلب کے عہدے داروں نے کرنے نہیں دیا۔
تفصیلات کے مطابق قراقرم نیشنل مومنٹ کے اہم عہدے دار نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ آج سے چار دن پہلے ہم نے گلگت پریس کلب کے سیکرٹری جنرل کو اس ہم پریس کانفرنس کے بارے میں اطلاع دی تھی اور اُنہوں نے آج چار بچے پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی تھی لیکن جب ہم پریس کانفرنس کرنے وہاں پونچے تو ہمیں بتایا کہ پریس کانفرنس ہال میں اس وقت کچھ کام ہورہا ہے آپ لوگ کسی ہوٹل میں یہ پریس کانفرنس کریں ۔جس پر ہمیں تعجب ہوا اور ہم نے اپنے طور پر چیک کیا تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا بلکہ پریس کلب کے ایک اہم عہدے دار نے ہمیں بتایا کہ آپ کا پریس کانفرنس روکنے کیلئے ہمارے اوپر پریشر ہے لہذا ہم آپکو پریس کانفرنس اجازت نہیں دے سکتے۔ قراقرم نیشنل مومنٹ کے سابق چیرمین محمد جاوید سے ہم نے رابطہ کیا تو اُنہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی تنظیم کے آرگنائزنگ کمیٹی نے پہلے ہی پریس کلب کو اطلاع دی تھی لیکن عہدے داران نے عین اُسی وقت پر پریس کانفرنس کو روک دیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کے اندر پریس کلب بھی آذاد نہیں۔ اُنہوں نے بتایا ہمارا پریس کانفرنس کا اصل مقصد جموں کشمیر لداخ کے معصوم عوام سے اظہار یکجہتی اور گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کے خاتمہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے حکمرانوں کا اگاہ کرنا تھا ۔
قراقرم نیشنل مومنٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کی عکس کچھ یوں ہے۔

More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا