سکردو(ٹی این این) سول سوسائٹی بلتستان کا جموں کشمیر لداخ گلگت بلتستان میںہونے والی ذیادتیوں کے خلاف یادگار شہداء سکردو پر پُرامن احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا۔اس موقع پرگلگت بلتستان یوتھ الائنس کے چیرمین شیخ حسن جوہری کے مظاہرین سے خصوصی خطاب کیا۔ اُنکا کہنا تھا کہکہ جو قانون کی آج بھارت میں جموں کشمیر لداخ میں خلاف ورزی کی ہے بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں 52 سالوں سے معطل ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج تک کسی بھی قومی علاقائی اہم ایشوز پر مسجدوں اور مدرسوں سے نہ نکلنے والے علماء آج کشمیر کے حمایت میں نکل آئےحالانکہ ظلم وبربریت برما ،یمن، شام، افغانانستان، کوئٹہ اور فلسطین میں بھی جاری ہیں ان کے لیے کبھی کسی نے حمایت کرنے کی جرات نہیں کی۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہواکہ گلگت بلتستان میں جاری لاقانونیت اور بربریت میں مقامی علما ء اورسیاست دان اور خواص برابر کے شریک ہیں۔
احتجاجی ریلی میں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے معزز افراد نے شرکت کی۔ شرکاء احتجاج نے درج ذیل قرارداد کو اکثریتی رائے منظور کئے۔
1- جموں کشمیر لداخ میں بھارتی ظلم اور بربریت کی ہم بھرپورانداز میں مذمت کرتے ہیں۔
2- جموں کشمیر لداخ گلگت بلتستان میںسٹیٹ سبجیکٹ کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
3- گلگت بلتستان میں موجود قدرتی وسائل معدنیات پر غیرمقامی افراد کے نام لیزکو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔
4- ریاست جموں کشمیر لداخ گلگت بلتستان کے تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
سول سوسائٹی بلتستان کا جموں کشمیر لداخ گلگت بلتستان جاری مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا