سکردو(ٹی این این ) انسپکٹرجنرل پولیس گلگت بلتستان ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی کی زیر صدارت گلگت بلتستان میں خودکشیوں کے واقعات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ہوا. اجلاس میں خودکشیوں اور چائلڈپرٹیکشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس میں مختلف سماجی و فلاحی تنظیموں کے ممبران کے علاوہ حکومتی سطح پر چلنے والے اداروں کے نمائندگان جن میں سوشل ویلفیئر, وویمن ڈیلپمنٹ اور یتیموں کی دیکھ بھال کے اداروں کے ذمہ داروں نے شرکت کی. جن میں مولانا حسین احمد مدنی انچارج یتیم خانہ کنوداس گلگت, سید مجاہد علی شاہ سوشل ویلفیئر آفیسر گلگت, محمد طاہر ریٹائرڈویلفیئر آفیسر گلگت, محمد تاشفین وائس چیئرمین درانی ویلفیئر کنوداس گلگت اور انچارج ویمن ڈویلپمنٹ جی بی شامل ہیں. اس کے علاوہ پولیس آفیسران جن میں فرمان علی ڈی آئی جی کرائمز برانچ, حنیف اللہ خان اے آئی جی سپیشل برانچ, محمد جمیل اے آئی جی آپریشنز, عبداللہ خان ڈی ایس پی لیگل نے بھی شرکت کی. انسپکٹرجنرل گلگت بلتستان ثناء اللہ عباسی نے سماجی تنظیموں کے ممبران کی خودکشیوں اور بچوں کی نگہداشت کے حوالے سے اعداد و شمار اکٹھا کرنے کی کاوشوں کو سراہا اور اور امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اس کار خیر کو مذید بہتر طور پر جاری رکھیں گے. اس بار گلگت بلتستان پولیس مکمل طور پر قانونی تعاون فراہم کرے گی. آئی جی پی نے مذید کہا کہ کہ شرکائے اجلاس بے گھر بچوں کا ریکارڈ اور بچوں کے خودکشی اور اقدام خودکشی کے واقعات کی تحقیقات اور تعداد کے بارے میں پولیس کو تفصیل مہیا کریں. اجلاس میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ڈیڑہ سالوں میں کل 40 خودکشیوں کے مقدمات رپورٹ ہوئے ان میں سے 33 خواتین اور 7 مردوں نے اپنے ہاتھوں اپنی ذندگی کا چراغ گل کیا. اسی دورانیے میں اقدام خودکشی کے 24واقعات رپورٹ ہوئے. جن میں سے 18 واقعات خواتین اور 6 مقدمات مرد حضرات سے ہیں. اعداد و شمار کے مطابق خودکشی اور اقدام خودکشی کے واقعات ضلع غذر اور ضلع گلگت سے رپورٹ ہوئے ہیں. آئی جی پی نے کہا اس رجحان کو کم کرنے کے لئے معاشرے کو اپنا کردار کرنا پڑے گا. نیز حکومتی اور سماجی سطح پر ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ خودکشی کے رجحان پر قابو پایا جا سکے. سال 2014سے جون 2019تک کل 119 خودکشی کے واقعات میں سے پولیس تحقیقات کے نتیجے میں 7 واقعات قتل ثابت ہوئے. 11 مقدمات قتل بلاسبب کے مقدمات کا اندراج ہوا جبکہ 101 مقدمات خودکشی ثابت ہوئے. جبکہ اسی دورانیے میں 59 مقدمات اقدام خودکشی کے رپورٹ ہوئے جن میں 14 مقدمات زیر تفتیش ہیں. 7 مقدمات کا اخراج ہوا. 38 مقدمات کا مجاز عدالت میں چالان پیش ہوئے ہیں. جن میں سے 4 میں سزا7 میں بریت اور 27مقدمات زیر سماعت ہیں. انسپکٹرجنرل پولیس گلگت بلتستان نے آخر میں کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی انتہائی ضروری ہے ہر ادارے کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا. آئی جی پی نے آخر میں تمام شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ بھی اس قسم کے اجلاس منعقد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا.
گلگت بلتستان میں پانچ سالوں میں خودکشیوں کے کتنے واقعات پیش ائی محکمہ پولیس نے تفصیلات جاری کردی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا