سکردو ( اقبال علی)یونیورسٹی آف بلتستان کا ماسٹر پلان حتمی مراحل میں داخل. پری ایچ ای سی میٹنگ میں ٹیکنیکل کمیٹی کا پراجیکٹ زوننگ اور دیگر انفراسٹرکچر کی تفصیلی سکروٹنی. یونیورسٹی ماسٹر پلان میں آئندہ پچاس سال کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا. وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلتستان پوفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان.یونیورسٹی آف بلتستان کی ماسٹر پلاننگ کے لیے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ کی زیر سربراہی ٹیکنکل کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جسمیں وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلتستان پوفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد ادریس اور ای اے کنسلٹنٹ کے نمائندگان نے شرکت کی اور 13 جولائی کو منعقد ہونے والی میٹنگ کی روشنی میں تیار شدہ حتمی ماسٹر پلان منظوری کے لئے پیش کیا. کمیٹی نے ماسٹر پلان کے مختلف فیچرز کا یونیورسٹی کی مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا. مذکورہ پلان کو اگست کے اواخر میں ابتدائی تفصیلی ڈیزائن پیکج کی تیاری کے بعد ایچ ای سی کی ریویو کمیٹی میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا. اس موقع پر وائس چانسلر بلتستان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے کہا کہ کراچی کی بین الاقوامی کنسلٹنگ فرم جو کہ مشکل اور پیچیدہ ترقیاتی منصوبوں کی تیاری میں خصوصی مہارت رکھتی ہے، کو تفصیلی غوروخوض کے بعدبلتستان کے علاقائی کلچر اور تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ماڈل ڈیزائن تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تا کہ یونیورسٹی کا تعمیراتی سٹرکچر نہ صرف زیبائش کے لحاظ سے منفرد ہو بلکہ بلتستان میں آنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی باعثِ کشش ہو. انھوں نے کہا کہ ہم اپنے طے شدہ ٹارگٹ کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اورانشاللہ رواں سال ہی میں یونیورسٹی کا تعمیراتی کام پورے زور وشور سے شروع ہو جائے گا. انہوں نے کہ دریا کے کنارے خوبصورت محل وقوع میں واقع الاٹ شدہ یونیورسٹی کی زمین تعمیرات کے بعدملکی اور بین الاقوامی اداروں کے لئے خصوصی دلچسپی کا سبب بن جائیگی اور اہل بلتستان کے لیے بھی ایک دائمی علمی و ثقافتی مرکز بن جائے گی.
یونیورسٹی آف بلتستان کا ماسٹر پلان حتمی مراحل میں داخل، آئندہ پچاس سال کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا