اسلام آباد(ٹی این این) کشمیر کمیٹی کے چیرمین سید فخر امام نےنیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا اعتراف کرلیا ۔
اُنہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی جانب سے مسلسل سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزیاں روکنے کے حوالے سے مطالبات جائز بلکل قرار دے دیا۔ اُنکا کہنا تھا کہ پاکستان کو گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُنہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے مکمل معلومات لیکر ہی حتمی رائے دے سکوں گا کیونکہ یہ معاملہ بہت حساس نوعیت کا ہے حکومت اس حوالے سے غور کرنا چاہتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ا مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چنددنوں میںدو بار مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی نوعیت کا مسئلہ ہے،تنازع پر تصفیہ کے لئے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان سے بھی بات کریں گے۔اُنہوں نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول 35۔اے کے خاتمے سے متعلق ارادے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔اُنکا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بھرپور انداز میں ہر جگہ اجاگر کرنا چاہیے، امریکی صدر ٹرمپ بھی اب اٹھ بیٹھے ہیں، افغانستان کا مسئلہ حل ہوتا ہے اور کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو خطہ میں امن نہیں آئے گا۔ اُنہوں نے بھارت کی جانب سے ہٹ دھڑمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہ کشمیر متنازعہ خطہ ہے اور یہاں کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کریں گے لہذا جنوبی ایشاء میں پائیدار امن کیلئے مسلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے جس پر پاکستان نے ہمیشہ سے لچک کا مظاہرہ کیا ہے لیکن بھارت کشمیر کے مسلہ سے بار بھاگنے کی کوشش کرتا ہے جو اب ناممکن نظر آتا ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا