اسلام آباد(ویب ڈیسک/ٹی این این)وزیراعظم عمران خان نے ایوان صدر اسلام آباد میں اقلیتوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نئے پاکستان سے متعلق میرا ایک وژن ہے، الیکشن سے پہلے اپنا وژن عوام کے سامنے نہیں لایا،اسلام کی ریاست ماڈل حضرت محمد نے بنائی تھیں،پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا۔وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کو بنانے کےلئے اس کا مقصد سمجھنا چاہیے، ریاست مدینہ اپنے وقت کی جدید ترین ریاست تھی، چاہتا ہوں کہ مدینہ کی ریاست پر تحقیقی مطالعہ کیا جائے، ریاست مدینہ نئے پاکستان کےلئے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے، ملک میں ریاست مدینہ پر یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کرانا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت محمدﷺ کا اقلیتوں سے سلوک ہمارے لئے مشعل راہ ہے، دنیا کی ترقی یافتہ ممالک نے ریاست مدینہ سے رہنمائی حاصل کی، حضوراکرم کی زندگی ہمارے لئے قیامت تک مثال رہے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں ریاست مدینہ کی بات ووٹ لینے کیلئے کرتا ہوں لیکن ایسا نہیں ہے، سب جانتے ہیں کن لوگوں نے اسلام کے نام پر دکانیں کھولی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں سنتے ہیں کہ لوگوں کو زبردستی مسلمان کیا جارہا ہے، زبردستی لوگوں کو اسلام میں شامل کرنے والے قرآن وحدیث نہیں جانتے، ایمان لانے پر اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہے، ہم کیسے لوگوں کو زبردستی مسلمان کرنے کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں، ایمان لانا انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں باہر سے پیسہ پاکستان لایا، پارٹی کا صدر ہونے کی حیثیت سے جواب دہ ہوں، پاکستان میں تماشا دیکھیں، سابق صدر اور وزیراعظم عدالت میں خود کو بے قصور ثابت نہیں کرتے۔
عمران خان نے کہا کہ ہماری تباہی کا سبب 10 برس میں 24 ہزار ارب کا مقروض ہونا ہے، جن لوگوں نے ملک کو مقروض کیا ان سے حساب مانگو تو کہتے ہیں کہ انتقامی کارروائی ہورہی ہے، وہ جواب نہیں دیتے، وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ بڑے چوروں کو جیل میں ٹی وی، فریج اور اے سی دے رکھا ہے،جو جتنا بڑا مجرم ہے اسے جیل میں اتنی زیادہ سہولیات ملی ہوئی ہیں۔
عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی نہیں، ہماری جنگ حقوق اور قانون کی بالادستی کی جنگ ہے، قانون کی بالادستی نہ ہوتو امیر اور غریب کےلئے الگ قانون ہوتا ہے، قانون کی حکمرانی سے زیادہ مسئلے ختم ہو جائیں گے،اندرون سندھ میں براحال ہے، لوگ پیچھے رہ گئے، انہیں حقوق نہیں ملیں گے تو وہ کیسے پاکستان کی بات کریں گے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی نہیں، ہماری جنگ حقوق اور قانون کی بالادستی کی جنگ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا