گلگت(جی بی ٹوڈے)گلگت بلتستان کی عدالت عظمیٰ میں خاتون خانسامہ کی تعیناتی اور پھر مبینہ طور پرجنسی ہراسانی کا انکشاف ہوا ہے۔ خانسامہ خاتون کی برطرفی و متبادل خاتون کی تعیناتی کے لیٹر گلگت بلتستان ٹوڈے کو موصول ہوگئے۔ان دستاویزات کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار فار رجسٹرارسپریم اپلیٹ کور ٹ کے دستخطوں سے 04مارچ 2019کوجاری ہونے والے لیٹر کے مطابق گریڈ 1کی ملازمہ یعنی خانسامہ مسماة (ن) ساکن شگر کو بغیر کسی وجہ سے نوکری سے فارغ کرکے اسی لیٹر کے ذریعے ہی دوسری خاتون مسماة (ب) ساکن کچورہ سکردو کو بطور خانسامہ کنٹیجنٹ بیسڈ گریڈ 1تعینات کیا گیا ہے۔جبکہ دوسرے جانب گلگت بلتستان کے ایک موقر روزنامہ ”بادشمال“میں 14جولائی 2019کو چھپنے والی خبر میں اس ادارے کا نام لئے بغیر اشارتاً کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں بعض اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے خواتین کوخانسامہ تعینات کرکے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا انکشاف ہوا ہے تاہم خواتین ملازمت چھن جانے کے خوف سے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو چھپانے پر مجبور ہورہی ہیں۔اخبار میں مزید کہا گیا ہے کہ ماہرین قانون خواتین کو خانسامہ کی ملازمت پر رکھنے کو خلاف قانون قرار دے رہے ہیں اور بعض سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں نے سرکاری دفاتر میں بڑھتے ہوئے واقعات کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ذرایع نےاس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ ایک اعلیٰ عہدیدار نے ہراساں کرنے کے عمل میں عدم رضامندی پر خانسامہ خاتون کو برطرف کرکے نئی تعیناتی عمل میں لائی ہے۔
گلگت بلتستان کی بڑی عدالت کے بڑے عہدیدار پر ملازمہ کو جنسی ہراساں کرنے کا سنگین الزام۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا