ہنزہ(ٹی این این) سانحہ عطا آباد کے بعد عوامی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کے نتیجے میں گزشتہ دس سالوں سے قید کامریڈ بابا جان اور قراقرم نیشنل مومنٹ کے رہنما افتخار حسین کربلائی اور دیگر 14 سیاسی اسیران کی رہائی کیلئے ضلع ہنزہ کے عوام نے باقاعدہ طور پر احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا۔ ریلی میں مختلف سیاسی ،سماجی،کاروباری اور مذہبی جماعت کے لوگ اور عوام نے کثیر تعدا د میں شرکت کی۔ احتجاجی ریلی کیلئے ضلع ہنزہ میں مکمل شٹر ڈاون ہڑتال کئی گئی ۔مظاہرین نے رہنماوں کے حق میں بینر اُٹھا کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ گزشتہ دس سالوں سے ہنزہ کے دو درجن نوجوان اپنے ناکردہ گناہوں کی سزائیں بھگت رہے ہیں۔ دس سالوں سے اپنے گھر بار اور عزیز و اقارب سے دور زندانوں میں زندگی بسر کرنے کی سزا صرف اس لئے دی گئے ہے کہ ہنزہ کے نوجوان سانحہ عطا آباد کے متاثرین کے جائز حق کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ متاثرین کے احتجاج پر گولیاں برسانے والی سرکاری پولیس اور اعلی افسران ہر تفتیش اور کاروائی کریں اور سانحہ علی آباد انکوائری کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائیں۔
ضلع ہنزہ سانحہ عطا آباد کے سیاسی اسیران کی رہائی کیلئے عوام نے احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا