سکردو(ٹی این این خصوصی رپورٹ موسیٰ چلونکھا سے ) سوشل میڈیا کو دنیا میں سب پاور فل میڈیا تصور کیا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر ایک سائن بورڈ کی تصویر بہت ہی زیادہ وائرل ہورہا اس سائن بورڈ پر لکھا گیا ہے کہ خبردار یہاں سے اگے چھوربٹ تورتک بارڈر ہے جو 48 سال سے بند ہے اگر اب نے جانا ہے تو واہگہ بارڈر کی طرف سے جائے جس پر ایک سوشل ایکٹوسٹ زاہد ستروغی یتو نے لکھا ہے کہ واہگہ بارڈر سے بھی دونوں طرف کے خاندانوں کو اپس میں ملنے کیلئے ویزہ نہیں دیا جاتا ہے اور بھارت نے ویزہ پالیسی بہت سخت کیا ہوا ہے سال میں کم ازکم سو کے قریب ویزہ کیلئے درخواست بھارتی سفارتخانے میں جمع کرتے ہیں تو بڑی مشکل سے ایک شخص کو ویزہ ملتا باقی 99 لوگوں کو ویزہ دینے سے صاف معذرت کرتے ہیں اور یہ تصویر سوشل ایکٹوسٹ زاہد ستروغی یتو نے بنایا ہے ۔اخر یہ سائن بورڈ کی تصویر کیوں وائرل ہورہا ہے سوال یہ ہے 1971 کی پاک بھارت جنگ میں بھارت نے پاکستان کے چار گاوں چلونکھا تورتک ٹیاقشی تھنگ پر قبضہ کرلیا تھا اور ان چار گاوں کے تقریبا ہزاروں فیملی اور ایک دوسرے سے جدا ہوئے بہن بھائی سے ماں بیٹے باب اپنے لخت جگر سے سے جدا ہوکر جو 48 سالوں سے ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات کرنے کی امید لگائے بیٹھے ہوئے ہیں اگر چھوربٹ تورتک بارڈر کھل سکا تو چھوربٹ فرانو سے تورتک 20 منٹ کا راستہ بھی نہیں ہے اور دونوں حکومت نے یہ بارڈر کھول کر بچھڑے ہوئے خاندان کو اپس میں ملاتا تو نہ واہگہ بارڈر کے زریعے 15 دن کا لمبا مسافت طے کرکے چلونکھا تورتک لداخ تک جانے کی زحمت بھی نہیں کرنا پڑتا ہے اور سکردو سے لداخ چلونکھا تورتک تک چار سے پانچ گھنٹے کا راستہ ہے واہگہ بارڈر کے زریعے 15 دن کے کا راستہ ہے جبکہ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی طرف پانچ کے قریب بارڈر کھول کر بچھڑے ہوئے خاندان کو اپس میں ملانے کا موقع دیا جارہا بلکہ تجارت بھی ہورہا ہے اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی چلتا رہا جبکہ دونوں حکومتوں نے ان چار گاوں چلونکھا تورتک ٹیاقشی تھنگ کے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو اپس میں ملانے کیلئے بارڈر کو کھولنے کیلئے کوئی دلچسپی نہیں لئے رہا ہے لداخ کے علاوہ کرگل کے بھی ہزاروں خاندان 1948 اور 1971 کے بعد سے جدا ہے کرگل لداخ کے مہاجرین نے دونوں حکمرانوں نے کرگل سکردو روڈ اور لداخ خپلو روڈ کھولنے کا مطالبہ کئی دہائیوں سے کیا جارہا ہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہورہا ہے کسی بھی وقت بھارت کی طرف سے کرگل اور لداخ کی طرف سے بارڈر کی طرف لانگ مارچ ہوسکتا ہے اور اسی دن سکردو میں مقیم مہاجرین کرگل لداخ اور نوبراہ لداخ بارڈر کی طرف لانگ مارچ کرسکتا ہے کرگل کی مہاجرین کرگل بارڈر کی طرف کی طرف لانگ مارچ کرکے اپنے زور بازو بارڈر کھولا جا سکتا ہے اس پہلے دونوں حکومتوں کو ایک بنچ پر پر کھڑا ہوکر ان بچھڑے ہوئے خاندانوں کو اپس میں ملانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا