تعلیم سب کےلیے

0 0

جب سے سوہنی دیامر انٹرنیشنل معروض وجود میں آیا ہے تب سے ہمارے دوست انفرادی طور پر فلیڈ میں کام کرنے سے پہلے یہ جملہ بہت زیادہ استعمال کرتےتھے۔
میرے کرنے سے کیاہوگا؟
یہ جملہ سوہنی دیامر ویلفٸیر کےلیے انتہاٸی نقصاندہ بلکہ ہر فلاحی کام کےلیے رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ہر وقت کوٸی بھی اچھا کام کرنے سے پہلے یاکسی بھی اچھے کام کے حق میں یا معیاری تعلیم کے حق میں آواز اٹھانے سے قبل یہ جملہ ہمارے دماغوں کے رچ بس گیا تھا۔
سو میں سے نوے فیصد لوگ اس بیماری کا شکار ہوجاتےہیں۔ڈاکٹر زمان نے تین سال پہلے سچ کہا تھا،جو تنہا چلنے کی ہمت رکھتے ایک دن قافلے انہی کے پچھے چلتےہیں۔

ابھی دو دن پہلے سوہنی دیامر کے چیرمین عبدالباسط عباسی، پروفیسر طاہر ممتاز،مولانا عبدالباری،ڈپٹی ڈاٸریکٹر دیامر،پرانسپل KIU CAMPUS محمد بلال خان،اور دیگر شعبہ ہاٸی زندگی سے تعلق رکھنے والے دوستوں
نے چلاس میں ایک پروگرام چلاٸی ”ایجوکشن فار آل کمپین“ کے نام سے چلاس شاہین کوٹ سے ابتدا کی انشإاللہ دوسرا کمپٸن تھک نیاٹ میں شروع کرینگے۔
اس کمپٸن کو سوہنی دیامر کے عوام نے بہت سراہا اور کمپٸن کو پورے دیامر کے گاوں گاوں میں چلانے کے یقین دہانی بھی کراٸی۔جس مقصد کےلیے سوہنی دیامر ویلفٸیر کی بنیاد رکھاگیاتھا وہ مقصد تقریباً حاصل ہوگیاہے۔۔۔۔۔تب مجھے افسوس ہوا ہے کہ سوہنی دیامر کے دوست اکثر کوٸی ناانصافی یاظلم زیادتی یا کوٸی پروگرام میں انفرادی طور پر شامل ہونے یافیلڈ میں کام کرنا ہوتاتو خاموش ہوکر بیٹھ جاتے تھے۔۔۔۔کہ میں اکیلا کیا کرسکتاہوں یا میرے کرنے سے کیا ہوگا؟
بس سوہنی دیامر کے دوستوں سے گزارش اتنی ہے کہ ہمیں اس سوچ سے نکلنا ہوگا۔۔۔۔۔ہم جو کرسکتے ہیں وہ کریں باقی اس مالک ومختار پر چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ ہوتاوہی ہے جو منظور خدا ہوتاہے۔۔۔۔ہاں بس ہر بات میں اپنے طرف سے کوشش نیک نیتی اور اخلاص کا ہونا شرط اول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاصل کلام: پہلا قدم اٹھانے کی ہی دیر ہوتی ہے“
باقی قدم خود بخود اٹھنے لگتےہیں۔۔۔!!

آٸیے ہم سب مل کر پہلا قطرہ بنیں
پہلا قدم اٹھاٸیں

تحریر۔۔۔۔ضیا ٕاللہ گلگتی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website