قدرتی پارک کے اوپر سرکاری پارک۔۔

0 0

محترم قارئین مہذب معاشروں میں عوام کو بہتر آب ہوا کی فراہمی اور سیر تفریح کی سہولت کیلئے پارک بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کوشش یہ کی جاتی ہے کہ پارک ایسی جگہ پر بنایا جائے جو ویران ہو غیر آباد ہو تاکہ وہاں مواقع پیدا کرنے سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی واقع ہو۔ لیکن عجب تماشا لگی ہے میرے دیس میں، جہاں آباد زرخیرز کھیتوں کو اُجاڑ کر سرکاری زراعت جنگلات کیلئے باغ بنائی جاتی ہے وہیں قدرتی طور پر موجود پارک اور فصل دار کھیتوں کو اُجاڑ کر پارک بنا کر سرکار اور سرکاری مقامی سہولت کار عوام کے اوپر احسان بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ضلع کھرمنگ کے مشہور سیاحتی مقام منٹھوکھا میں ایک سرکاری پارک کا افتتاح ہوا ۔ اس پارک کی تعمیر کیلئے نہ ہی ویران اور بنجر میدان کو سرکاری فنڈز لگا کر آباد کرنے کی ضرورت پڑی اور نہ ہی کسی کھنڈر میدان کو آباد کیا بلکہ چند سہولت کاروں کی ملی بھگت سے عوامی زرعی زمینوں کو کئی افراد سے پوچھے بغیر کسی سرکاری پارک کیلئےمختص کردیا۔ اب چند کنال بندوبستی زمینوں کی حصول کے بعد اگلا مرحلہ خوفناک ہے جسکا احساس شائد ہی کسی کو ہوا ہے لیکن مستقبل میں زور کا جھٹکا ضرور لگے گا۔ ذرائع کے مطابق پارک کے سامنے تا لب ندی اور لب دریا سندھ پلاٹ کیلئے مختص زمین سے بڑھ کر عوامی زمینیں ہیں جسے عرف عام میں حریم اور سرکاری کاغذات میں خالصہ کہا جاتا ہے، جسے آنے والے وقتوں میں بغیر کسی معاوضے کے سرکای پارک میں شامل کیا جائے گا کیونکہ زمین خالصہ ہے اور گلگت بلتستان میں منتظم سرکار نے خالصہ کی تعریف سرکاری زمین سے کی ہوئی ہے حالانکہ تاریخی اور قانونی طور پر خالصہ سرکار سے مراد سرکاری زمین بلکل نہیں ہے لیکن مقامی حکومت اس حوالے سے قانون سازی کرنے میں آج تک ناکام رہا ہے اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں لینڈ ریفارمز کمیشن پچھلے دو سالوں سے زیر لتواء ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ عوامی نمائندوں کو عوامی زمینوں کی تحفظ سے کوئی سروکار نہیں۔ سٹیٹ سبجیکٹ رول کے بارے اللہ کی مہربانی سے عوام کو معلوم ہی نہیں ہے اور جو اس حوالے سے جانتے ہیں اُنکا اس حوالے سے بات کرنا مراعات یافتہ حکومت کیلئے غداری ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسی علاقے میں کئی ایسے بنجر مقامات اور میدانی علاقے ہیں جہاں حکومت خرچہ کرکے پارک بنا سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے مستقبل قریب میں عوام سے ہی زمینوں کی مالکانہ حقوق چھین کر صرف گھروں کی ملکیت تک محدود کرنا ہے یہی وجہ ہے ایک ایسے علاقے میں جہاں آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے زمینوں کی آباد کاری کا نظام ہمارے علاقے میں موجود ہی نہیں بلکہ عوام نے عدم سہولت کی وجہ سے نے بالائی نالہ جات میں موجود زرخیز زمینوں کو بھی خیرباد کہنا شروع کردیا ہے۔
بدقسمتی سے ضلع بنانے کا اصل مقصد عوام کیلئے سہولت فراہم کرنا ،زراعت کیلئے مواقع پیدا کرنا تھا لیکن یہاں ایسا لگتا ہے کہ ضلع دراصل عوامی املاک پر سرکاری املاک بنانے کی غرض سے ہی بنایا ہے اور غیر آباد علاقوں کو آباد کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہی نہیں ہے۔

تحریر: شیر علی انجم

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website